
ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
بٹے ہوئے لوگ، کیا کریں گے
اک ایک کر کے ہی کٹ مریں گے
نفاق سے دشمنی کی ٹھانو
قہر سے ور نہ، نہ بچ سکیں گے
...ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
فانی حیات سے ہی، کچھ ابدی لئے چلو
جیون کے پل میں یارو، کچھ ایسا کئے چلو
گرچہ دیئے کی لو تری کٹیا بھی دے جلا
...ظلمت کی اس گھڑی میں، جلائے دئیے چلو
ہواﺅں کی دشمنی تو چراغوں سے ھے رہی
اس ابدی دشمنی کو، نبھائے ہوئے چلو
سچ بولنے کی قیمت، خوشی سے ادا کرو
امرت ہو گر زہر تو، خوشی سے پئے چلو
جب تک یہ زندگی ھے، تم کو ھے جینا فرخ
مرنے کے خوف سے نہ، یوں گھٹ گھٹ جئے چلو
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
کیسے مر مر کے یہاں لوگ جیا کرتے ہیں
ایسی باتوں پہ بہت غور کیا کرتے ہیں
آتشِ عشق میں پکتا ہوا لاوہ گویا
...ڈور اشکوں کی ھے، سینے کو سیا کرتے ہیں
جس نے کر دی ھے سزا، زیست مری ہی مجھ پہ
اب بھی لب نام، ادب سے وہ لیا کرتے ہیں
جب سے باتوں کے سلا سل، تو نے چھینے ہم سے
مے خموشی کی، صبح و شام پیا کرتے ہیں
جس نے ساقی سے روابط، سبھی توڑے اپنے
اُس کی آنکھوں کو ہی الزام دیا کرتے ہیں
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
اے پورب تو گواہ رہنا
مغرب سے متاثر ہیں
رواں منزلِ مغرب
مغرب کے مقدر میں
غروب ہونا ہے لکھا
...
کل مشرق کی پناہ گاہ میں
سبھی آ کے چھپیں گے
یہ نوشتہِ دیوار ھے
یہ آخر کو ھے ہونا
مشرق سے ہی نکلے گا
پھر حق کا وہ سورج
جو شام سے پہلے
چکا چوند کرے گا
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
اک تو شوقِ سفر بھی رکھتے ہو
اور نگاہوں میں گھر بھی رکھتے ہو
چھوڑ ساحل کو بھی نہیں سکتے
...منزلوں پہ نظر بھی رکھتے ہو
مصلحت ظلم سے بھی جاری ھے
جوشِ خونِ جگر بھی رکھتے ہو
تم بغاوت کا حوصلہ تو کرو
جان جاو گے، پَر بھی رکھتے ہو
موت کا وقت جب مقرر ھے
پھر زمانے کا ڈر بھی رکھتے ہو
دل میں باطل سے کُڑھتے رہتے ہو
احترامِ نظر بھی رکھتے ہو
میرِ ملت، انا کا خوں کر کے
اپنے شانوں پہ سر بھی رکھتے ہو
بن کے سردارِ قوم بیٹھے ہو
لب پہ بوندِ عذر بھی رکھتے ہو
تم نے شب کو بھی تھام رکھا ھے
اور امید سحر بھی رکھتے ہو
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
Ghazal: Ek to Shauq-e-Safar Bhi Rakhtay Ho - By: ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید's Poetry

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
▓▓░░░๑۩۞۩๑_♥ مَٹی کا حوالہ ♥_๑۩۞۩๑░░░▓▓
غریبی سے ھے لا پرواہ، ہر اِک معصوم سی خواہش
مِری بچی سے چھوٹی سی، وہ گڑیا چھن گئی دیکھو
گرانی میں مَیں بچوں کو، کھلونے دے نہیں سکتا
...مِرے بچوں سے روٹی کا، نوالہ تو نہیں چھینو
چَلو ہم اپنے بچوں کو، قتل کرنے پہ راضی ہیں
مگر ہم سے تو مرنے کی بھی حاجت چھین لی تم نے
تِرے اِس دَور میں اَب کے، زہر خالص نہیں ملتا
مِرے بچوں سے مَٹی کا، حوالہ تو نہیں چھینو
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید - Re-inventing Progressive Urdu Poetry
ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید's Poetry

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
LET ME SAY!
مَیں نسلوں کی گواہی ہوں
کہ جن کی را ئے کو تم نے
یہاں بوٹوں سے روندا ھے
کہ جن کو حقِ گوےائی
...دیا سنگینوں کے سائے
کہ جن کو سچ مسخ کر تم
نصابوں میں پڑھاتے ہو
مَیں نسلوں کی گواہی ہوں
جہاں جمہور کو تم لوگ
فقط حشرات گنتے ہو
جہاں قانون مکڑی کے
فقط جالے کی مانند ھے
جو ہم جےسے نحیفوں کو
جکڑ لےتا ہے بے وجہ
اور جِسے تم چِیر کر ہر روز
یونہی آذاد پھرتے ہو
مَیں نسلوں کی گواہی ہوں
جہاں میں سوچ سکتا ہوں
مگر بس سوچ کی حد تک
وگرنہ سوچنے کے کچھ
یہاں آداب ہوتے ہیں
مگر مَیں بے ادب سا ہوں
ہمیشہ بِن اِرادے کے
حدوں کو توڑ دیتا ہوں
مَیں بیزارِ ہدایت ہوں
شروع سے بے روایت ہوں
یہاں جھوٹ اور ڈِھٹائی کا
رواج ایسے پڑا دیکھا
کہ سچ خود کے گریباں میں
شرم سے تار دیکھا ھے
یہاں پر باضمیروں کو
سدا لاچار ہے پایا
مگر موقع شناسوں کو
بَنا اوتار دیکھا ھے
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
LET ME SAY - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید
ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید's Poetry

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
کس میں جنوں کی منزلیں پانے کا حوصلہ؟
نیزے پہ سر کو اپنے سجانے کا حوصلہ
ہواﺅں میں شعلے سرکش بنانے کا ہو ہنر
...خوں سے بجھے چراغ جلانے کا حوصلہ
ظلمت کی رُت میں ساتھ ہمارے وہی چلیں
جن میں ہو گھر کو آگ لگانے کا حوصلہ
صبح تلک تو قافلے بن جائیں گے مگر
کس میں ہے سوئی صبح جگانے کا حوصلہ؟
فرخ جو حالات کا شکوہ کریں فقط
اُن میں نہیں مقدر بنانے کا حوصلہ
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
اِک عمر سے اس شب میں گرفتار ہوں مَیں بھی
اِس ظلم سے اَب بَر سرِ پیکار ہوں مَیں بھی
بچوں کو آسانیاں بہم کرنے کی خاطر
دُشوار منازل کا، طلبگار ہوں مَیں بھی
...
گھر میرا رکاوٹ تھا، جلا ڈالا ھے اس کو
ہر بار مَیں ڈرتا تھا کہ گھر دار ہوں مَیں بھی
کب تک اِنہی ٹکڑوں پہ گذر اپنی رھے گی
مَیں بے سَروساماں سہی، خود دار ہوں مَیں بھی
اک عمر تلک چشمِ تماشا بھی رہا ہوں
صد شکر تغیر کا عَلم دار ہوں مَیں بھی

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
چلو اس سحر سے خود کو، گھڑی بھر کو رہا کر لیں
چلو خود ہی ہم اپنے راستے، آؤ جدا کر لیں
چلو اس ایک انہونی کو دل سے اب بھلا بھی دیں
...چلو کوئی جو ممکن ہو، وہی رب سے دعا کر لیں
چلو اس دل کو عبرت کا، جہاں میں اک نشان کر دیں
چلو ابدی سی تنہائی میں جیون کو سزا کر لیں
چلو ہستی کے چنگل سے، نکل کر بھی تو کچھ سوچیں
چلو جگ میں جو آئے ہیں، تو یہ بندھن روا کر لیں
چلو پتھر زمانے پہ، نچھاور آرزو کر دیں
چلو خود غرض دنیا سے، ہمی خود کو منہا کر لیں
چلو اس وصل آخر شب، مجذب سے مجرد ہوں
چلو اشکوں سے دُھل کے ہم، وضوح بھی پار سا کر لیں
چلو فرخ کہ ممکن نہ سہی ان پہ عمل کرنا
چلو کہنے کی حد تک تو، مجاور انتہا کر لیں
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
Public Figure:7,349 people like this.

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
PAKISTAN انقلابی تبدیلی کیلئے - in Search of LEADERSHiP
اٹھو پھر سے زمین کھودیں ، اور اس میں اپنے دل بو دیں ، کہ اس بے رنگ جینے سے ، نہ تم خوش ہو نہ ہم خوش ہیں
If you think you are too small to make a difference, you have never been in bed with a mosquito then. JOIN & invite ALL your friends as well. Thanks
Dear Pakistanis, it’s time to say enough is enough, get up, take charge, and play our role... the role of a concerned, informed and engaged citizen. Why must we live in continuous fear? As third class citizens in our own motherland? Why must we pay through our blood fo...r basic amenities that we don’t even fully get? Pakistan, a land of bountiful resources, with agriculture as our mainstay and industry our growing limbs. A beautiful country rich in minerals, brains and diversity. Why then must we, the people of Pakistan, always settle for less? Why be bullied? Why compromise? We've had enough of defeatists, apologists and pessimists. Time for Pakistanis to rise. It is time for us to break the chains of slavery, to rise to the challenges, to compete against the nations, to eliminate poverty, to fight those who terrorize our lands, to avenge those who have taken what is rightfully ours, to fight the oppressors, to shout the truth from the mountains till all can hear it, accept it, believe it, follow it. Join us. Be a part of the Revolution... Lets Revolt to challenge the status-quo for a pro-masses Revolution in Pakistan to bring a visible change in the lives of the ordinary Pakistanis & to make Pakistan a Progressive Model Welfare State. A Govt of the People, by the People & for the People in real terms. REMEMBER: You've got nothing to lose but chains & there is world to win! اٹھو پھر سے زمین کھودیں ، اور اس میں اپنے دل بو دیں ، کہ اس بے رنگ جینے سے ، نہ تم خوش ہو نہ ہم خوش ہیں Our mission is to change all the obsolete systems of Pakistan through the wonderful and energetic youth of Pakistan (regardless of any difference such as Caste, Sects, Religion, Region, background and social status) to make our homeland a Modern, Progressive Model Welfare State. Pakistan Zinda Bad LETS GET UNITED JOIN us to be the Pioneers and invite your friends as well to be an active part of this Revolution. Thank you all... PAKISTAN - ZINDA BAD وطن کی مٹی عظیم ہے تو، عظیم تر ہم بنا رہے ہیں، گواہ رہنا - پاکستان : زندہ باد
Non-Profit:3,865 people like this.

جسم ھے مٹی سے اپنا، میں مٹی کا مانآئی لو مائی پاکستان، آئی لو مائی پاکستاناس کے پرچم کو سب مل کے، اونچا رکھیں گےاس کی خاطر ہر پستی کی، لذت چکھیں گےانسانوں کے اس جنگل میں، یہ اپنی پہچانآئی لو مائی پاکستان، آئی لو مائی پاکستانجب بھی تن پہ آئے گی، ہم جان پہ لے لیں گےموت سے ہم نہ ڈرنے والے، آگ سے ک...

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
آہ قوم کی اقدار کے، سب پشتے ہل گئے
کچے گھروں کے خواب سب، مٹی میں مل گئے
طوفان کی خبر کوئی، دے دو جمہور کو
بستی کے پہرے دار بھی، لہروں سے مل گئے
...ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
اندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں
چلو کہ اپنی صبح کو جگا کے آتے ہیں
...سبھی جو مان رھے ہیں، بہت اندھیرا ھے
چراغ جوڑ کے سورج بنا کے آتے ہیں
ہجومِ شہر پہ سکتہ کہ پہل کون کرے
صلیبِ شہر کو آؤ سجا کے آتے ہیں
یہ رات روز جو ہم سے خراج مانگے ھے
ہزار سر کا چڑھاوا، چڑھا کے آتے ہیں
نہیں ھے کچھ بھی بچا اب، بجز یہ زنجیریں
اُٹھو یہ مال و متاع بھی، لٹا کے آتے ہیں
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
Public Figure:7,349 people like this.

ibn-e-Umeed فرخ اِبنِ اُمید
-
اِک رات ھے ابدی سی، یا یہ عہدِ سزا ھے
صبح نہیں کرتا ھے، یہ سورج ھے یاکیا ھے
گرہن زدہ سورج ھے، دے روشنی چند کو
اِک سایہ زدہ دن میں کھڑی، خلقِ خدا ھے
...اِس فرش کے باسی کا بھی حق، روشنی پہ ھے
دیپک نے ہی خود لَو تلے، اندھیرا کیا ھے
اندھی شبوں کی کوکھ سے، صبح کا ہو جنم
ظلمت کے ہر اک عہد میں بلال ہوا ھے
نسلوں کی فکر ہم کو، مگر اپنی نہیں ھے
ننھا سا دیا ھوں میں، بہت تیز ھوا ھے
اِس خوابوں کی جنت میں، یہ کیا ہم پہ بنی ھے
اک عمر سے تکتے ہیں کہ محشر سا بپا ھے
کس کس کو خدا مانیں، خداؤں کے نگر میں
ہم نے تو سنا تھا کہ فقط ایک خدا ھے
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
Public Figure:7,349 people like this.














