Photos
Videos
Urrs Sharif 2007
21
9
Posts

کائنات کا تمام تر حسن و جمال ابد الآباد تک آفتابِ رسالت کے جلوؤں کی خیرات ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دنیا کے خوش قسمت ترین انسان تھے کہ انہوں نے حالتِ ایمان میں آقائے محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت حاصل کی۔ اُنہیں ان فضاؤں میں جو تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انفاسِ پاک سے معطر تھیں، سانس لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہ تھی، دیدارِ مصطفیٰ صلی اللہ علی...ہ وآلہ وسلم اُنہیں دنیا و مافیہا کی ہر نعمت سے بڑھ کر عزیز تھا۔ وہ ہر وقت محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جھلک دینے کے لئے ماہیء بے آب کی طرح تڑپتے رہتے تھے۔ اس حسنِ بے مثال کی جدائی کا تصور بھی ان کے لئے سوہانِ روح بن جاتا۔ وہ چاہے کتنے ہی مغموم و رنجیدہ ہوتے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آتے ہی ان کے دل و جاں کو راحت اور سکون کی دولت مل جاتی، پھر وہ عالمِ وارفتگی میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائمی رفاقت کی آرزو اور تمنا کی فضائے دلکش میں گم ہو جاتے۔ انہیں یہ اندیشہ بے تاب رکھتا کہ کہیں اُن سے صحبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گراں بہا نعمت چھن نہ جائے، اُن کے قلوبِ مضطر کو اس وقت قرار آیا جب اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال پر مر مٹنے والے عشاق کو اخروی زندگی میں ابدی رفاقتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مژدۂ جانفزا سنایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہوا :

وَمَن يُطِعِ اللّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـئِكَ رَفِيقًاO ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّهِ وَكَفَى بِاللّهِ عَلِيمًاO

(القرآن، النساء، 4 : 69، 70)

’’اور جو کوئی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روزِ قیامت)

اُن (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیںo یہ فضلِ (خاص) اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہےo‘‘

See More

آیت مقدسہ میں والنجم کہہ کر اللہ ربّ العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولیت کی ہی نہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخریت کی بھی قسم کھائی۔ اسی لئے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر ختم نبوت کا تاج سجایا گیا کہ محبوب! اب تیرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تیرے ساتھ ہی ہماری وحی کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا۔ اب قیامت تک ہر صدی تیری صدی ہے، ہر زمانہ تیرا زمانہ ہے۔ وہ قرآں جو تجھ پر نازل کیا گیا وہ بھی آسمانی ہدایت کا حرف آخر ہے کیونکہ اے محبوب! تو رسول ...آخر ہے، تمام فضیلتیں تجھ پر ختم ہو رہی ہیں۔ تمام عظمتیں تیرے قدموں پر نثار ہو رہی ہیں۔ اب تیرے قدموں تک پہنچنا ہی انسانیت کی معراج ہے۔ اے محبوب قسم ہے تیری کہ تو کائنات کا وجود اول بھی ہے اور کائنات کا وجود آخر بھی تو ہی ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اول و آخر ہونا اللہ تبارک و تعالیٰ کی بھی شان ہے۔ اس نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اسی شان کا مظہر بنایا۔ وہ خالق ہو کر اول و آخر، یہ مخلوق ہو کر اول و آخر، وہ اپنی ربوبیت میں یکتا و تنہا، یہ عبدیت میں اپنا مثال آپ۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مخلوق کا موازنہ کسی صورت میں بھی خالق کائنات سے نہیں کیا جا سکتا۔ وہ خالق ہے یہ مخلوق، وہ معبود ہے یہ عابد، وہ مولائے کائنات ہے یہ رسول کائنات، وہ ربّ العالمین ہے یہ رحمۃ للعالمین۔

حدیث قدسی میں ارشاد ربانی ہے :

جعلتک اول النبيين خلقا واخرهم بعثا.

(شفاء، 1 : 240)

میں آپ کو پیدا ہونے میں تمام انبیاء سے اول لایا اور ظاہر ہونے میں سب سے آخر میں۔

حضور سرور کون و مکاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کائنات کا نقطۂ آغاز یا وجود اول ہے اور آپ سلسلۂ انبیاء کے ظہور میں آخری نبی ہیں۔ قرآن مجید فرقان حمید میں ربّ کائنات نے فرمایا :

وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىO

(النجم، 53 : 1)

اے محبوب! تیری قسم کہ تو ہی تخلیق کائنات میں سب سے اول تھا اور ظہور میں سب سے آخرo

See More
No automatic alt text available.
Posts