Photos
Posts

رگوں میں چیختا پھرتا ہے ایک سیلِ جنوں
اگرچہ لہجے میں شائستگی ملال کی ہے
.
Sk

یہاں تکرارِ ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے
تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا
ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے
ہمارا عشق بھی اب ماند ہے جیسے کہ تم ہو...
تو یہ سودا رعایت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت نادم کیا تھا ہم نے اک شیریں سخن کو
سو اب خود پر ندامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت ممکن ہے کچھ دن میں اسے ہم ترک کردیں
تمہارا قرب عادت کے سوا کیا رہ گیا ہے
کہاں لے جائیں اے دل ہم تری وسعت پسندی
کہ اب دنیا میں وسعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
سلامت ہے کوئی خواہش نہ کوئی یاد زندہ
بتا اے شام وحشت کے سوا کیا رہ گیا ہے
کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب
کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت لمبا سفر طے ہو چکا ہے ذہن و دل کا
تمہارا غم علامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
اذیّت تھی مگر لذّت بھی کچھ اس سے سوا تھی
اذیّت ہے اذیّت کے سوا کیا رہ گیا ہے
ہمارے درمیاں ساری ہی باتیں ہو چکی ہیں
سو اب اُن کی وضاحت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بجا کہتے ہو تم ہونی تو ہو کر ہی رہے گی
تو ہونے کو قیامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
شمار و بے شماری کے تردّد سے گزر کر
مآلِ عشق وحدت کے سوا کیا رہ گیا ہے

See More
Posts

روز خوابوں میں اسی شخص کو لے آتی ہے
لاکھ سمجھایا مگر آنکھ مانتی ہی نہیں
،
شازی کریم
Sk

وجد تھا اِک رقص میں اور پھر نجانے کیا ہوا
پاﺅں سے گردن تلک زنجیر پاگل ہو گئی

گر گئی سیلن زدہ اُمید پھر سیلاب سے
دل میں تھی جو حسرتِ تعمیر پاگل ہو گئی

...

رفتہ رفتہ آئینے سورج بکف ہوتے گئے
عکس ہجرت کر گئے ، تصویر پاگل ہو گئی

sk

See More

مجھ سے پوچھتے ہیں لوگ
کس لئیے دسمبر میں
یوں اداس رہتا ہوں
کوئی دکھ چھپاتا ہوں
یا کسی کے جانے کا...
سوگ میں مناتا ہوں

آپ میرے البم کا
صفحہ صفحہ دیکھیں گے
آئیے دکھاتا ہوں
ضبط آزماتا ہوں

سردیوں کے موسم میں
گرم گرم کافی کے
چھوٹے چھوٹے سپ لے کر
کوئی مجھ سے کہتا تھا
ہائے اس دسمبر میں
کس بلا کی سردی ہے
کتنا ٹھنڈا موسم ہے
کتنی یخ ہوائیں ہیں

آپ بھی عجب شے ہیں
اتنی سخت سردی میں
ہو کے اتنے بے پروا
جینز اور ٹی شرٹ میں
کس مزے سے پھرتے ہیں

شال بھی مجھے دے دی
کوٹ بھی اڑھا ڈالا

پھر بھی کانپتی ہوں میں

چلئیے اب شرافت سے
پہن لیجئے سویٹر
آپ کے لئیے میں نے
بن لیا تھا دو دن میں

کتنا مان تھا اس کو
میری اپنی چاہت پر

اب بھی ہر دسمبر میں
اسکی یاد آتی ہے

گرم گرم کافی کے
چھوٹے چھوٹے سپ لے کر
ہاتھ گال پر رکھے
حیرت و تعجب سے
مجھ کو دیکھتی رہتی
اور مسکرا دیتی

شوخ و سرد لہجے میں
مجھ سے پھر وہ کہتی تھی
اتنے سرد موسم میں
آدھی سلیوز کی ٹی شرٹ!ٓ
اس قدر نہ اترائیں
سیدھے سیدھے گھر جائیں
اب کی بار جب آئیں
براؤن ٹراؤزر کے ساتھ
بلیک ہائی نیک پہنیں
کوٹ کوئی ڈھنگ سا لے لیں
ورنہ میں قسم سے پھر ایسے روٹھ جاؤں گی
سامنے نہ آؤں گی
ڈھونٹتے ہی رہئیے گا
پاس بیٹھے ابّو کے
پالٹیکس پر کیجئے گرم گرم ڈسکشن
کافی لے کے کمرے مِیں مَیں تو پھر نہ آؤں گی
خالی خالی نظروں سے آپ ان خلاؤں میں
یوں ہی تکتے رہئیے گا
اور بے خیالی پر ڈانٹ کھاتے رہئیے گا

کتنی مختلف تھی وہ
سب سے منفرد تھی وہ
اپنی ایک لغزش سے
میں نے کھو دیا اسکو

اب بھی ہر دسمبر میں
اسکی یاد آتی ہے

خلیل اللہ فاروقی
،
شازی

See More

درد کی بیل آنگن میں چڑھنے لگی
سب دریچووں ستونوں پہ قبضہ لیے
بیل چڑھنے لگی درد تنہائ کی
درد پتہ نہیں درد جڑ بھی نہیں
درد گل بھی نہیں کہ مہک جاۓ گا...
آندھیاں جب چلیں تو بکھر جاۓ گا
یا سمٹ جاۓ گا
درد دریا نہیں ناگواری میں رخ ہی بدل جاۓ گا
درد پہیہ نہیں جس کو تھوڑی سی حرکت بھی کافی لگے
درد ساون نہیں جو برس جاۓ گا
اک جلن سب کی آنکھوں میں رکھ جاۓ گا
درد بچہ نہیں کہ ذرا سا ڈراؤ تو ڈر جاۓ گا
اک چٹکی بجاؤ بہل جاۓ گا
درد بوڑھا نہیں کھانستے کھانستے ہی گزر جاۓ گا
درد تاریک راہوں کا راہی نہیں کہ بھٹک جاۓ گا
درد ہم تم بھی نہیں کہ ٹھہر جاۓ گا چین آنے تلک
درد ہم تم نہیں کہ ذرا سی ہوا ہم کو تڑپاۓ گی
ہم کو الجھاۓ گی
درد غم کی ہوا
درد غم کا دیا
درد بجھتی ہوئی آنکھ میں روشنی
درد ہے زندگی ، درد ہے آگہی
درد دردوں میں جینے کا اک آسرا
درد جی کر مرا درد مر کر جیا
درد روشن دیا
درد میرا پیا

See More

میرے ہو کے رہو۔ ۔ ۔ !!!
اپنی خاطر جگے ہو، سوئے ہو
اپنی خاطر ہنسے ہو، روئے ہو
کس لیئے آج کھوئے کھوئے ہو
تم نے آنسو بہت پیئے اپنے...
تم بہت سال رہ لیئے اپنے
اب میرے، صرف میرے ہو کر رہو
حسن ہی حسن ہو، ذہانت ہو
عشق ہوں میں، تو تم میری محبت ہو
تم مری بس مری امانت ہو
جی لیئے،جس قدر جیئے اپنے
تم بہت سال رہ لیئے اپنے
اب میرے ، صرف میرے ہو کر رہو
رہتے ہو رنج وغم کے اندھیروں میں
دُکھ کے، آسیب کے بسیروں میں
کیسے چھوڑوں تمہیں اندھیروں میں
تم کو دے دوں گا سب دیئے اپنے
تم بہت سال رہ لیئے اپنے
اب میرے ، صرف میرے ہو کر رہو
تم ازل سے دُکھوں کے ڈیرے ہو
چاہے خود کو غموں سے گھیرے ہو
جب سے پیدا ہوئے ہو میرے ہو
آج کھولیں گے لب سیئے اپنے
تم بہت سال رہ لیئے اپنے
اب میرے ، صرف میرے ہو کر رہو
اب مجھے اپنے درد سہنے دو
دل کی ہر بات دل سے کہنے دو
مری بانہوں میں خود کو بہنے دو
مدتوں غم خود سیئے اپنے
تم بہت سال رہ لیئے اپنے
اب میرے ، صرف میرے ہو کر رہو

شازی

See More

ناکام نہیں ناشاد نہیں
میں قیس نہیں فرہاد نہیں
پُنّوں بھی نہیں رانجھا بھی نہیں
وامق بھی نہیں مرزا بھی نہیں
وہ لوگ تو بس افسانہ تھے...
اِس شدّت سے بیگانہ تھے
میں زندہ ایک حقیقت ہوں
سرتاپا جذبہ اُلفت ہوں
میں تم کو دیکھ کے جیتا ہوں
ہر لمحہ تم پہ مرتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟
”تم جہاں پہ بیٹھ کے جاتے ہو
جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہو
میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں
اس چیز کو چُھوتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟
تم جس سے ہنس کے ملتے ہو
میں اس کو دوست بناتا ہوں
تم جس رستے پر چلتے ہو
میں اس سے آتا جاتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟
تم جن کو دیکھتے رہتے ہو
وہ خواب سرہانے رکھتا ہوں
میںتم سے ملنے جلنے کے
کتنے ہی بہانے رکھتا ہوں
میں ایسی محبت کرتاہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟“
کچھ خواب سجا کر آنکھوں میں
پلکوں سے موتی چُنتا ہوں
کوئی لمس اگر چُھو جائے تو
میں پہروں تم کو سوچتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو
جن لوگوں میں تم رہتے ہو
تم جن سے باتیں کرتے ہو
جو تم سے ہنس کے ملتے ہیں
جو تم کو اچھے لگتے ہیں
وہی مجھ کو اچھے لگتے ہیں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟
جس باغ میں صبح کو جاتے ہو
جس سبزے پر تم چلتے ہو
جو شاخ تمھیں چُھو جاتی ہے
جو خوشبو تم کو بھاتی ہے
وہ اوس تمھارے چہرے پر
جو قطرہ قطرہ گرتی ہے
وہ تتلی چھوڑ کے پھولوں کو
جو تم سے ملنے آتی ہے
جو تم کو چھونے آتی ہے
ان سب کے نازک جذبوں میں
مِرے دل کی دھڑکن بستی ہے
مِری روح بھی شامل رہتی ہے
تم پاس رہو یا دُور رہو
نظروں میں سمائے رہتے ہو
میں تم کو تکتا رہتا ہوں
میں تم کو سوچتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟
جس کالج میں تم پڑھتے ہو
میں اس میں لیکچر دیتا ہوں
وہ کلاس جہاں تم ہوتے ہو
میں اس کو تکتا رہتا ہوں
جس کرسی پہ تم بیٹھتے ہو
میں اس کو چُھوتا رہتا ہوں
جو کاپی تم نے گم کی تھی
میں اپنے بیگ میں رکھتا ہوں
گدلا سا ایک ٹشو پیپر
جو تم نے کلاس میں چھوڑا تھا
وہ میرے پرس میں رہتا ہے
وہ میرے لمس میں رہتا ہے
وہ مخمل ہے وہ دیبا ہے
وہ چاندی ہے وہ سونا ہے
وہ عنبر ہے وہ صندل ہے
وہ خوشبو کا اِک جنگل ہے
ہر منظر میں ہر رستے پر
میں ساتھ تمھارے ہوتا ہوں
میں چشمِ تصور سے اکثر
بس تم کو دیکھتا رہتا ہوں
بس تم کو سوچتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

See More

ناصرؔ سے کہے کون کہ اللہ کے بندے
باقی ہے ابھی رات ذرا آنکھ جھپک لے،،
،
شازی

جُدا ہوئے ہیں بہت لوگ، ایک تم بھی سہی
اب اِتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں​
.
شازی

اپنی بے چینیاں چھپانے کو
تھوڑا تھوڑا قرار باقی ہے
،
شازی کریم

بادہ خانے، شاعری، نغمے، لطیفے، رتجگے
اپنے حصے میں یہی دیسی دوائیں رہ گئیں
،
شازی

اب توتنہائی کے اِس عادی کو
ساتھ اِک کا بھی، قافلہ سا لگے
،
اپنا سایا ہو ہمقدم تو مجھے
تیرے ہونے کا شائبہ سا لگے...
،
شازی

See More

ترے بخشے ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب
جو بھی غم ہو مرے معیار سے کم ہوتا ہے
،
شازی

مجھ کو احساسِ جُرم اتنا تھا
میں سزا سے بھی مطمئن نہ ہوا
،
شازی

یہ کس منزل پہ لے آیا ہے مجھ کو شوقِ تنہائی
جہاں موجودگی اپنی غضب محسوس ہوتی ہے
__
،
شازی

ذرا سی ہجر میں احساس ہو چلا مجھ کو
مِری حیات یہ، اُس بِن ہے رائیگاں بالکل ​
،
شازی