Photos
Posts
Image may contain: one or more people and beard
Image may contain: 1 person
Image may contain: 1 person, text
People Of Pakistan added 3 new photos.

برائے مہربانی راولپنڈی اسلام آباد کے لوگ متوجہ ہوں۔

منڈی موڑ سے اسلام آباد کی طرف نکل رہا تھا کہ اچانک اس بابا جی پر نظر پڑ گئی ، گاڑی رکوائی اور کیلے لینے لگا... ، فروٹ لینے کی ضرورت نہیں تھی فقط اس وجہ سے لیا کہ بزرگ بیچ رہے ہیں، یقینا مجبوری نے یہاں بٹھایا ہو گا ،

باتوں باتوں میں پوچھا بابا جی کہاں سے ہو ؟

جواب دیا بونیر سے ہوں ، پھر سوال کیا بیٹے نہیں ہیں جو اس عمر میں یہاں بیٹھے ہو ؟ کہا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ پاگل ہے ،

ذہن میں سوال آیا پوچھوں بیٹیاں کتنی ہیں ؟

مگر بات بیٹیوں کی تھی اس لیے نہ پوچھ سکا ، یہ سوال لبوں سے واپس کیا ، ایک حساس انسان بوڑھے باپ کا جواب سننے کی تاب نہیں رکھ سکتا ، اگر بابا جی کہہ دیتے بیٹیاں جہیز کے انتظار میں ہیں تو قیامت نے آ جانا تھا ، اس سوال کی ہمت ہی نہیں ہوئی ، چپ ہو گیا ،

دیر بعد پوچھا رات کہاں گزارتے ہو ؟

جواب دیا ادھر ہی، کمبل اوڑھ لیا اور سو گئے ، کوئی کمرہ نہیں ، کہا بابا جی اجازت ہو تو ہاتھ چوم لوں ؟ میرا یہ کہنا تھا کہ بابا جی رو پڑے ، میرے بھی آنسو گر گئے ، خود کو سنبھالا ، بابا جی کو گلے لگایا اور چل پڑا ، خیال آیا ان سے فون نمبر لے لوں اور دوستوں سے کہوں اس خودار انسان کی مدد کیجئے ، واپس فون نمبر کے لیے پلٹا تو کہا بیٹا فون استعمال کرنا ہی نہیں آتا شناختی کارڈ دے سکتا ہوں ، ہم نے شناختی کارڈ کا فوٹو لیا اور آپ کے سامنے رکھ دیا ،

ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ کیا آپ بھی اس بزرگ کے ساتھ تعاون کریں، جس دیس کے بوڑھے راتوں کو سڑک پر سوتے ہوں اور دن کے اجالے میں سڑک کنارے کیلے بیچتے ہوں وہاں رحمتیں نہیں اترا کرتیں ، سوچیں اس عمر میں ہمارا والد یہاں بیٹھا ہوتا تو ہم پر کیا گزرتی؟

سچ یہ ہے کہ

میں قادر مطلق کی حکمتیں آج تک نہیں جان پایا ، ایک بیٹا دیا اور وہ بھی پاگل ؟ خود مالک کائنات کہتے ہیں کہ سفید بالوں سے حیا کرنے والے میرا حیا کرتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ یہ بخت روان بابا جی کا امتحان نہیں اس سوسائٹی کا امتحان ہے ، اس معاشرے کا امتحان ہے ، شاید قدرت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ہم اس امتحان میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ؟ آئیے ان کی مدد کے لیے قدم اٹھائیے_

نوٹ بابا جی راولپنڈی منڈی موڑ ہی ہوتے ہیں ان کا رابطہ نمبر کوئی نہیں جو دوست ان سے تعاون کرنا چاہتے ہیں وہ خود مل لیں یا کوئی ایک نمائندہ دوست مقرر کر لیں جو ان تک انکی امانت پہنچا دے_
Plz Share For Baba g...( منقول )

See More
Posts
Shuaa and Khawateen Digest added a new photo.
January 18
Image may contain: text
National Academy of Young Scientists (NAYS), Pakistan.

چیف جسٹس کے لیے
جاوید چوہدری جمعـء 29 دسمبر 2017

میرے ایک بزرگ دوست فائیو اسٹار اسپتال کے مالک ہیں‘ اسپتال میں تمام جدید سہولتیں‘ ڈاکٹرز اور نرسیں موجود ہیں لی...کن یہ جب بھی بیمار ہوتے ہیں یہ اپنا علاج سرکاری ڈاکٹر سے کراتے ہیں یا پھر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں‘ یہ ادویات بھی باہر سے منگواتے ہیں‘ یہ اپنے لیے ٹوتھ پیسٹ‘ صابن‘ شیمپو‘ ادویات اور ناشتے کا سامان بھی باہر سے لاتے ہیں۔
یہ ریستورانوں میں کھانا بھی نہیں کھاتے‘ میں نے ان سے جب بھی وجہ پوچھی‘ یہ مسکرا کر بولے‘ آپ بھی کوشش کریں آپ کسی ڈاکٹر کے ہتھے نہ چڑھیں‘ آپ ملک کے کسی پرائیویٹ کلینک یا اسپتال چلے جائیں یہ آپ کا نام‘ پتہ اور فون نمبر لے لیںگے‘ آپ کو ایک ریفرنس نمبر الاٹ کریں گے اور آپ کو اپنا مستقل ممبر بنا لیں گے‘ کیوں؟ آپ نے کبھی وجہ جاننے کی کوشش کی‘وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے انکار میں سر ہلا دیا‘ وہ بولے آپ یہ بھی چھوڑ دیجیے۔
آپ نے کبھی سوچا آپ جب ایک بار کسی کلینک‘ اسپتال یا ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں تو آپ پھر بار بار اس کے پاس جاتے ہیں‘ کیوں؟ وجہ صاف ظاہر ہے‘ یہ ڈاکٹرمسیحا اور اسپتال شفاء خانے نہیں ہیں‘ یہ دکاندار اور شاپنگ سینٹر ہیں‘ آپ ایک بار ان کے پاس چلے جائیں تو پھر آپ مسلسل آتے جاتے رہتے ہیں مثلاً آپ کے دانت میں درد ہوا‘ آپ ڈینٹیسٹ کے پاس چلے جائیں‘علاج کے چند دن بعد آپ کی داڑھوں اور مسوڑھوں میں بھی درد شروع ہو جائے گا‘ آپ ان کا علاج کرائیں گے آپ کے منہ سے بو آنا شروع ہو جائے گی‘ آپ ماؤتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے‘ یہ پیسٹ اور یہ ماؤتھ واش آپ کا گلا اور معدہ خراب کر دیں گے اور آپ معدے اور گلے کے لیے اسپتال جائیں گے ‘ آپ کو بلڈ پریشر اور دل کا مسئلہ ہو جائے گا یوں آپ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے چکر لگاتے چلے جائیں گے۔

وہ رکے اور بولے‘ میں ہمیشہ اپنے دوستوں کو مشورہ دیتا ہوں آپ ڈاکٹر کے پاس صرف ایمرجنسی میں جائیں‘ آپ چھوٹی موٹی تکلیف میں آرام کریں‘ واک کریں‘ کھانا کم کھائیں اور کسی حکیم سے کوئی ایک آدھ جڑی بوٹی لے لیں مگر کسی ڈاکٹر کے پاس نہ جائیں اور اگر مجبوری ہو تو کسی نوجوان ڈاکٹر کے ہتھے نہ چڑھیں اور اگر یہ بھی ناممکن ہو تو آپ اس سے یہ ضرور پوچھ لیں۔
ڈاکٹر صاحب! آپ نے ایم بی بی ایس کہاں سے کیا تھا اور اگر وہ ڈاکٹر کسی پرائیویٹ میڈیکل کالج کا ڈگری ہولڈر نکل آئے تو آپ فوراً اٹھ کر بھاگ جائیں کیونکہ اگر ڈاکٹر نے علاج شروع کر دیا تو آپ اٹھنے کے قابل رہیں گے اور نہ ہی بھاگنے کے‘ وہ خاموش ہوئے اور پھر دکھی آواز میں کہا‘ ڈاکٹر عاصم حسین کراچی کے ایک بڑے اسپتال کے مالک ہیں لیکن یہ کمر درد کے علاج کے لیے بھی لندن جاتے ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ یہ جانتے ہیں یہ میڈیکل کے شعبے کے ساتھ کیا کیا کرتے رہے ہیں اور یہ ملک اب طبی لحاظ سے دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے چنانچہ یہ بھی ملک میں علاج کا رسک نہیں لیتے۔
میرا خیال ہے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو بھی اس خطرناک صورتحال کا اندازہ ہو چکا ہے لہٰذا یہ ٹھیک وقت پر ٹھیک میدان میں کودے ہیں ‘ یہ اگر پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا ڈھکن بند کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ملک کے بہت بڑے محسن ثابت ہوں گے‘ پرائیویٹ میڈیکل کالجز نے ملک میں کیا کیا اور یہ کیا کر رہے ہیں‘ آپ حقائق ملاحظہ کیجیے اور کانوں کو ہاتھ لگائیے‘ پاکستان میں 2008ء تک 61 برسوں میں صرف 26 میڈیکل کالجز بنے۔
ڈاکٹر عاصم حسین 2009ء میں پی ایم ڈی سی کے وائس پریذیڈنٹ بنے اور انھوں نے تین برسوں میں 97 پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی اجازت دے دی‘ پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو ملک میں26 کی جگہ 123 میڈیکل کالجز تھے‘ یہ کالجز قواعدو ضوابط‘ اساتذہ اور اسپتالوں کے بغیر بنے‘ مالکان نے منظوری کے لیے 5 کروڑ سے 20 کروڑ روپے تک رشوت دی‘ ڈاکٹر عاصم نے ایک ایک دن میں چھ چھ میڈیکل کالجز کی منظوری دی‘ آپ کمال دیکھئے تین کالجز کی فیکلٹی ایک تھی‘ یہ فیکلٹی پہلے ایک کالج کی عمارت میں تھی۔
انسپکشن ٹیم دوسرے کالج کی پڑتال کے لیے پہنچی تو یہ فیکلٹی وہاں بھی موجود تھی اور یہ لوگ جب تیسرے کالج پہنچے تو یہ پروفیسر وہاں بھی موجود تھے اور ٹیم نے تینوں کالجوں کی منظوری دے دی‘ ڈاکٹر عاصم کی اس مہربانی کے پانچ خوفناک نتائج نکلے‘ملک میں میڈیکل کی تعلیم کاروبار بن گئی‘ ہم نے کبھی سوچا امریکا‘ یورپ‘ آسٹریلیا اور گلف ہر سال پاکستان سے سیکڑوں ڈاکٹر کیوں امپورٹ کرتا ہے؟
یہ لوگ اپنے ملکوں میں سو دو سو میڈیکل کالجز بنائیں اور اپنی ضرورت پوری کر لیں‘ یہ نئے میڈیکل کالج بنانے کے بجائے پاکستان سے ڈاکٹر کیوں منگواتے ہیں؟ کیونکہ میڈیکل ایک حساس شعبہ ہے‘ آپ کو اس کے لیے اعلیٰ دماغ بھی چاہیے ہوتے ہیں‘ بڑی لائبریریاں‘ لیبارٹریاں‘ بڑے اسپتال اور سینئر فیکلٹی بھی‘ یہ تمام چیزیں اکٹھی کرنا مشکل ہوتا ہے چنانچہ یورپ‘ امریکا اور آسٹریلیا پانچ سو سال کی طبی تاریخ کے باوجود آج تک اپنی ضرورت کے مطابق میڈیکل کالجز نہیں بنا سکے۔
یہ آج بھی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی کا شکار ہیں جب کہ ڈاکٹر عاصم نے تین سال میں ملک کو سو نئے میڈیکل کالجز دے کر پوری دنیا کے چھکے چھڑا دیے‘ دوسرا‘پی ایم ڈی سی(پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل) ملک کا مقدس ترین ادارہ تھا‘ یہ ڈاکٹروں‘ میڈیکل کالجز اور اسپتالوں کا قبلہ تھا‘ نئے میڈیکل کالجز کی وجہ سے کونسل میں پرائیویٹ ممبرز کی تعداد بڑھ گئی اور حکومتی ارکان کم ہو گئے چنانچہ اس قبلے پر مفاد پرست درندوں کا قبضہ ہو گیا۔
ریاست اور حکومت کا اس پر ہولڈ ختم ہوگیا اور یہ درندے من مانی کرنے لگے‘ سوم‘ پرائیویٹ میڈیکل کالجز شروع میں طالب علموں سے 9 لاکھ روپے سالانہ وصول کرنے لگے‘ بعد ازاں کالجوں میں تارکین وطن کی نشستیں پیدا کی گئیں اور ان کے لیے سالانہ 18 ہزار ڈالر فیس طے کر دی گئی اور پھر کالجوں نے مالک‘ پرنسپل اور بورڈ آف گورنرز کو سیٹیں الاٹ کر دیں اور یہ لوگ ڈونیشن کے نام پر یہ سیٹیں 20 سے 50 لاکھ روپے میں فروخت کرنے لگے یوں طب جیسا شعبہ ٹھیکیداری بن کر رہ گیا اور ایف ایس سی میں سیکنڈ کلاس طالب علم بھی ڈاکٹر بننے لگے اور چہارم‘ یہ درندے انٹری ٹیسٹ کے سسٹم میں بھی گھس گئے۔
یہ لوگ اپنے طالب علموں کو انٹری ٹیسٹ میں پاس کرواتے ‘ انھیں اپنے کالجوں میں داخلہ دلواتے اور انھیں پانچ سال بعد ڈاکٹر کی ڈگری دے کر روانہ کر دیتے‘ چیف جسٹس پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے پرانے رزلٹ منگوا کر دیکھ لیں‘ یہ حیران رہ جائیں گے پاکستان کے قدیم ترین میڈیکل کالجز کے نتائج اسی سے نوے فیصد ہوتے ہیں جب کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز سو فیصد رزلٹ دے رہے ہیں گویا جس نوجوان نے بھی پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو بیس تیس لاکھ روپے دے دیے اسے ڈاکٹر کی ڈگری ضرور ملے گی اور پانچ‘ آپ کالجز کی عمارتیں‘ سہولتیں اور فیکلٹی چیک کر لیں۔
آپ کو اکثر کالج گھروں اور پلازوں میں ملیں گے‘ فیکلٹی ریٹائرڈ ڈاکٹروں اور پروفیسروں پر مشتمل ہوگی اور یہ لوگ بھی اکثر کالج تشریف نہیں لاتے‘ میڈیکل کالج کے لیے مکمل اور بڑا اسپتال ضروری ہوتا ہے لیکن آدھے سے زائد پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے پاس اسپتال کی سہولت موجود نہیں اور باقی آدھے کالجز کے اسپتالوں پر تالے پڑے ہیں‘ اسٹاف نہیں ہے یا پھر تمام ڈیپارٹمنٹس موجود نہیں ہیں چنانچہ طالب علموں کے ہاتھ میں میڈیکل کی فرسٹ کلاس ڈگری موجود ہے لیکن علم اور تجربہ نہیں۔
ڈاکٹروں کے لیے ہاؤس جاب ضروری ہوتی ہے لیکن یہ میڈیکل کالجز اس سہولت سے بھی فارغ ہیں‘ یہ لوڈ بھی سرکاری اسپتالوں پر شفٹ ہو رہا ہے‘ طالب علموں کا تعلق بڑے گھرانوں سے ہوتا ہے لہٰذا یہ سفارشیں کرا کر خود کو سرکاری اسپتالوں میں ایڈجسٹ کرا لیتے ہیں‘ مجھے ایک بار سروسز اسپتال لاہور جانے کا اتفاق ہوا‘ بچوں کے وارڈ میں 60 بیڈ تھے اور وہاں 60 ہی ہاؤس جاب ڈاکٹر تھے گویا ایک بیڈ پر ایک ڈاکٹر تجربہ حاصل کر رہا تھا چنانچہ آپ اندازہ کیجیے یہ ڈاکٹر ہاؤس جاب کے بعد مریض بچوں کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہوں گے۔
چیف جسٹس پرائیویٹ میڈیکل کالجز پر ہاتھ ڈال کر پوری قوم کی دعائیں لے رہے ہیں‘ میری چیف جسٹس سے درخواست ہے آپ گورنمنٹ کے میڈیکل کالجز کے پرنسپلز اور ملک کے دس بڑے اسپتالوں کے ’’ایم ایس‘‘ پر مشتمل بورڈ بنادیں‘ یہ بورڈ تمام پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا دورہ کرے‘ جس کالج میں سہولتیں موجود نہ ہوں اسے فوری طور پر سِیل کر دے اور طالب علموں کو فیسیں واپس کرا دے‘ یہ بورڈ تمام پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے ڈگری ہولڈرز کا ٹیسٹ اور انٹرویو لے‘ جو ڈاکٹر معیار پر پورا نہ اترے اس کی ڈگری منسوخ کر کے اس کی تصویر اخبار میں شایع کرادے۔
پی ایم ڈی سی میں سرکاری میڈیکل کالجز کی نمایندگی ستر اور پرائیویٹ کالجز کی تیس فیصد کر دی جائے ‘ عدالت ڈاکٹر عاصم حسین سمیت پی ایم ڈی سی کے ان تمام ارکان جنہوں نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی اجازت دی تھی انھیں پابند کر دے یہ اپنا علاج پاکستان اور پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے ڈاکٹروں سے کرائیں گے تاکہ یہ لوگ اپنا کیا ہوا بھگت سکیں اور سپریم کورٹ ملک میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی تشکیل پر پابندی لگا دے۔
میڈیکل کالج صرف اور صرف حکومت بنا سکے اور اس کے لیے بھی امریکی‘ برطانوی اور آسٹریلین ضابطہ اخلاق کی پابندی کی جائے‘ ملک میں کسی قصائی کو ڈاکٹر کہلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘ خدا کی پناہ ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیںاور ہم کس ملک کو ملک کہہ رہے ہیں۔

See More

Aaj kal Kon sa novel ap logon ka favorite hai?

daur tha ek guzar gaya, nasha tha ek utar gaya
ab vo muqam hai jahan shikva-e-berukhi nahin

Image may contain: 1 person, tree and outdoor
The Islamabadians

Dear brothers and sisters this is picture of an old man. I usually see him when I go for a walk on trail 3. He’s one of the nicest and most genuine person you’l...l come across but unfortunately not all of us is as fortunate to be able to live a comfortable life and so is this old man. I saw him again today when I went for a walk, he looked really down and weak. So I asked him if he was doing okay. He said he’s been really poor and that is due to the cold weather not a lot of people come to buy his water bottles, he said that he hasn’t got enough food for his family nor proper clothes to service this cold weather, but he keeps coming there hoping that he’ll make something to feed his family but he’s really struggling to survive.
I request all my friends to be a helping hand to this elderly person so him and his family can survive through this hard times. Literally the cost of our one night out, would mean a lot for him and his family.
If any one wants to help him please visit him at Trailer 3 as he hasn’t got a phone. You can help him financially or even with warm clothes. What goes around comes around, so may Allah bless you with hundred times more then what you help others in need.

Credits : Hani Babrai Changezi

See More
Amna Riaz Official added 54 new photos to the album: ‎دشتِ جنوں از آمنہ ریاض - قسط نمبر 21‎.

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔۔ دشت جنوں، قسط نمبر 21 ۤپ کے سامنے ہے، کل 52 پیجز ہیں اور کوئی بھی پپیج مسنگ نہیں ہے۔۔۔۔ کوئی پیج شو نہ ہونے کی صرت میں اپنا برآزر ری فریش کر لیں۔

ایڈمن: این۔ای

Aziqa Innocent to Shuaa and Khawateen Digest

Dear girls mujy bhi aik story ka pochna tha uss mein 2 friends hoti hein jin mein say aik ki shadi ho rahi hoti hai aur dosri friend ko apni friend ka he fiance...e pasand a jata ha ,phr shadi hony k baad he pehli friend ko pta chalta ha kay uski best friend he uss k husband k sath mil ker usay dhoka day rahi ha ,unn friends mein say aik ka nam shaued Eman hota ha .Plz kisi ko story ka nam yad ha tou bta dein. Thanks

See More
Image may contain: cloud, sky, mountain, outdoor and nature
Explore the Beauty of Pakistan

اگر آپ بابوسر ٹاپ تک پہنچے اور وھیں خالی بوتلیں ، ریپرز اور شاپر وغیرہ پھینک کر واپس چلے گۓ تو یقین کریں مشن پورا نہیں ھوا ، ذرا آف روڈ کر کے گیتی داس کی وادی ...اور چراگاہ میں چلے جاتے تو وہاں پر گند ڈالنے کو سب سے ذیادہ مواقع ھیں ، تو پھر ھو جاۓ ؟؟؟؟

فیصلہ ھمیں کرنا ھے کہ ھم نے اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھنا ھے یا اپنی آنے والی نسلوں کو ایک کوڑے کرکٹ سے آلودہ ملک دے کے جانا ھے، ذرا سوچیے

See More
Shamsa Kanwal Butt Shamsa to Shuaa and Khawateen Digest

اسلام وعلیکم۔ میں نے ایک کہانی کچھ سال پہلے پڑھی تھی سلسلے وار ناول تھا اس میں لڑکی کا نام۔ آمنہ ھوتا۔ وہ جس کو اپنا باپ سمجھتی جب وہ مرتے تو مرنے سے پہل...ے بتاتے کے تم میرے دوست کی بیٹی ھو تمہارے باپ کی۔ کوئی مجبوری تھی اس لیئے تم کو اس نے اپنی بیٹی ظاھر نہیں کیا لڑکی کا اصلی باپ آتا تو اسکو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاتا اس کے کزن کے نام ابرار اسرار تھے اور ایک لڑکے کا نام طالب بھی تھا پلیزکسی کو پتہ ھ تو بتائے مجھے

See More
Image may contain: 2 people, beard and closeup
Humans of Pakistan
News & Media Website
Humans of Pakistan

'Underprivileged but hardworking' are the words that best defines my family. Coming from a poor family background, living in a rural area, we had two ways to ea...rn a living; either we could served the people in power and live a less struggling life by dishonest means, or we could work hard on our own.
We chose the later.
I worked in a wood-factory from dawn to dusk on a very meager income. But I felt contented at heart. My wife teaches in an Islamic academy for PKR 2000 per month. We both worked to provide our children with the best in our capacity. My wife has played a huge role in making sure our children get education even if it comes at a cost of compromising our own basic needs. Life was going fine. Though, there were struggles and the days when we were broke but there wasn't a single day when all these circumstances had shaken our faith. It was always too firm, no matter what.
Lately, I wasn't feeling well but my nearly empty pocket made me ignore my health. One day, I woke up and felt my head was heavy. I wasn't able to see properly. Everything was blurred but again we assumed it was probably due to low sugar and ignored it. Then the very next day I fell down while unloading a truck at my work place. When I opened my eyes I wasn't able to see. This time it was all blank. I couldn't see anything at all as it was all black.The workers took me to the nearby hospital. I was diagnosed with cancer and found out that I have a deadly tumor in my brain.
The factory owner along with the help of some other people paid for my initial treatment. The tumor had spread all over my brain leading to visual impairing of my eyes. I am totally blind now. The doctors said that if they had waited a little longer, I'd have lost my life. At that time, I had no complains from Allah. I was rather obliged that He gave me a chance, He gave me time to diagnose my diseases.
With the help of donations from all over the village and relatives, my treatment began in Faislabad. Later, I was shifted to Lahore. The finances had increased and the poor people of my village had nothing more to offer except prayers.
The doctors say, it can still be cured and I can get one half of my eye-sight back after treatment of my tumor. I know, I am going be fine and will see my kids succeeding in their lives. My faith has grown very stronger in Allah. I have no complains from life. I know Allah will help me get through it. I am fighting till my last breath until the miracle happens.

----------------------

Farooq has undergone a surgery and doctors are hopeful to completely remove the tumor to get at least one eye's sight back.
However, he needs support for the surgeries and have a means of income after he gets discharged.
Hence, we request you to consider a donation from as less as Rs. 100 to as much as you can afford.
Fundraiser link: https://igg.me/at/uIHJY8sRevU

See More
Islamabadians added 11 new photos.

I visited Barkat Ali Uncle today. He is the most hardworking person I have ever met. Inko throat cancer hai par phr bhe rikshaw chalatay hain. I have attached his medical reports too.
Via : Rohayl Varind