Photos
Posts
Muhammad Javed added 10 new photos.

اللہ ، اللہ والے ، اللہ کا ذکر اور نشانیاں !
( اورنج ٹرین اور دربار بابا موج_دریا ع ر)

یہ پوسٹ ان لوگوں کے لئیے ہرگز نہیں جو سرے سے کسی خالق و مالک_کائنات ال...لہ اور اس کی حاکمیت اعلی کے منکر ہیں۔ مت پڑھیں کہ نا صرف آپ کا قیمتی وقت ضائع ہو گا بلکہ دیوانے کی بڑ بھی ناگوار_طبع گزرے گی۔
البتہ وہ تمام لوگ جو ایک اللہ اور اس کی مطلق العنانی کو ماننے والے ہیں اس دیوانے مستانے کی ہرزہ سرائی پر طبع آزمائی کر گزریں۔ وہ سبھی شاہد ہیں کہ اللہ تو سب کا ولی ہے لیکن کچھ اللہ کے بھی ولی ہیں۔ جو ہردم اپنے یار کے نہ صرف گن گاتے راگ الاپتے ہیں ۔ بلکہ رانجھا رانجھا کردی نی میں آپو رانجھا ہوئی کی عملی تصویر ہوتے ہیں ۔ ان کی ہر سانس ہر قدم ہر اداء سے صرف ان کے یار کی طرف دھیان جاتا ہے ۔ حتی کہ اس جہان_فانی سے پردہ پوشی کے بعد بھی ان کی چلہ گاہ یا آخری آرام گاہ جہاں صرف ان کا خاکی لباس زمین کو لوٹایا جاتا ہے ۔ وہاں سے بھی تلاش_حق کے طالب کسی نہ کسی اشارہ ( hint ) یعنی نشانی ( آیت - لوٹ میرے پاس میری نشانیوں کے ساتھ) سے آنے والی صدیوں میں فیض یاب ہوتے رہتے ہیں ۔ یار ان نشانیوں کا خود وارث ہوتا ہے۔ جو اس کے نام پر سب قربان کرکے فناء ہو چکے ہوتے ہیں ۔ دیت میں ان کی بقاء وہ بے نیاز خود ہوتا ہے ۔ عاشق جب ذات_معشوق سے جا واصل ہوتا ہے تو پھر دو نہیں ایک ہی باقی ہے ۔ دوئی نہیں اب یکتائی ہے اور یکتا پرستی تو ہو سکتی ہے۔ یکتا درستی کی اب گنجائش نہی ہوتی ۔ ایسی گستاخی کی جسارت کرنے والوں کی نسلوں کو بھی خمیازہ بھرتے بارہا دیکھا گیا ہے۔
یہ لوگ اپنی ظاہری حیات میں بھی مخلوق_خدا سے بے غرض پیار کا عملی شاہکار ہوتے ہیں اور غریب مسکین سے لے کر بادشاہ_ وقت بھی ان کے آستانوں بلاتخصیص فیض یاب ہوتے ہیں ۔ مخلوق_خدا کی بھلائی کے لئیے ایک آستانہ تو کیا یہ جان مال اولاد عزت آبرو سب وار دیتے ہیں ۔ لیکن پردہ فرمانے کے بعد یہ ننگی تلوار کی صورت ہیں ۔ کہ اب حق خود وارث ہے۔
اگر تو نیک نیتی سے خالص مخلوق_ خدا کی بھلائی کی خاطر اس عاشق کی نشانی سے چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے اور خود اس جگہ کو بھی شایان_شان طریقے سے سنبھالا جائے گا تو خیر ۔۔۔ وگرنہ کسی دنیاوی سیاسی منفعت کی خاطر یہ قدم فرعونوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی ۔

اللہ اللہ اللہ
اللہ الصمد دم صابر ولی ۔۔۔
میراں موج دا دریا کھولو رحم دی گلی ۔۔۔
علی حق علی حق علی حق علی حق علی حق

See More
Posts
No automatic alt text available.
Image may contain: text
Muhammad Javed added 2 new photos.

آپ سب لوگوں میں سے جس جس نے بابا جی کے پاس لاھور سے للہ کوسٹرز میں جانا ہے وہ سب ڈاکٹر صبا بخاری صاحبہ کو اپنا تعارف دے کر اپنے لئیے کوسٹر میں جگہ اور باقی تفصیل کے لئیے رابطہ کرلیں ۔ مزید کسی تفصیل کے لئیے میرے انباکس میں میسج کر سکتے ہیں ۔ شکریہ

Muhammad Javed added 5 photos and 2 videos.

مست مست میلہ
شام _ قلندر !

اب بابا یہاں آستانہ بنائے گا دیکھوں گا کون کون بابا کو ملنے آتا ہے یا سیدھا اسلام آباد یا لاھور کو نکل جاتا ہے ۔ بابا کو ملنے آیا... کرو گے ؟
بابا جی کی چمکتی آنکھوں میں ایک دبی دبی شرارتی سی معنی خیز مسکراہٹ تھی ۔ ڈھڈی تھل للہ میں وہ اپنا عصا پکڑے مہمان خانے کے صحن میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے فروری کی دھوپ سینکتے ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے جب اچانک یہ انکشاف نما بم گرا کر ہم سبھی کو استفسارانہ دیکھنے لگے۔
یہ 3 فروری 2005 کی دوپہر تھی۔ میں ، کامی، ڈاکٹر حسام ، ڈاکٹر صبا بخاری ، ڈاکٹر ایوب اور بہت سے دوسرے اچھنبے سے خود سراپا سوال بن گیے ۔ کیا مطلب بابا جی ؟
ہم آپ کو لاہور سے نہیں جانے دیں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
کاکا بابا ابھی بابا یہاں چھپ کے آرام کرے گا اور انتظار کرے گا کون کون بابا سے ملنے آتا ہے ۔ وعدہ کرو بابا سے ملنے آو گے ؟ آو گے نا ؟
اور ہاں بالخصوص 27 28 29 ذی الحج رہتی دنیا تک فیض_عام کے دن ہوں گے ۔ کوئی آجائے ۔۔۔ !
بابا درد کا نام ہے ۔ احساس کا ، بے لوث بے غرض شدید پیار اور خلوص کا نام ہے ۔ بابا کا مشن دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دو ۔ ہمارا مشن ہی یہ ہے کہ پیار کریں ۔ نفرت نہ کریں ۔ یہ درد کا مشن ہے ۔ درد سے پیار کرو ۔ درد آشنا بن جاو ۔

میں ان سارے لفظوں کے سحر میں کہیں کھو گیا ۔ گنگ گم سم ۔۔ زی الحج کے آخری عشرہ کا اوائل تھا ۔ میں جانتا تک نہ تھا کہ ٹھیک 5 دن بعد 8 فروری کی شام باباجی وصال پا جائیں گے اور 9 فروری کو اسی للہ میں ہم ان کے جسد_خاکی کو مالک_ حقیقی کے سپرد کر رہے ہوں گے۔

عین اس بے آب وگیاہ اجاڑ سڑک کنارے اس ویران جگہ پر ٹھیک 2 سال پہلے میں خالد اور کامران ان کے ساتھ پہلی بار آئے تھے ۔ اور انہوں نے چھڑی سے زمین کے ایک قطعے پر نشان لگا کر کہا تھا ۔ بابا اب جلد ہی یہاں آستانہ بنائے گا اور دیکھے گا کون کون بابا سے ملنے آتا ہے یا موٹروے پر سیدھا اسلام آباد یا لاھور نکل جاتا ہے ؟ تب 9 فروری 2003 شام 4 بجے تھے ۔ خالد نے ہنستے ہنستے تبھی انہیں گاڑی میں بیٹھنے کا کہا تھا "" بابا جی ابھی چار 5 سال صبر کریں ہم آپ کو لاھور سے کہاں آنے دیں گے ۔جلدی کریں میرے دوست کی مہندی ہے میں نے لاھور 7 بجے پہنچنا ہے آپ نے وعدہ کیا تھا اور ابھی یہ سب بھول جائیں " ۔۔
خالد بہت کم بولتا تھا لیکن اس دن بول گیا ۔ اچھا تمہیں پتہ ہے کیا ؟ بابا جی گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے رک گیے۔ اور خالد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرانے لگے ۔۔۔ خالد پھر بولا جی جی ابھی 4-5 سال ادھر ہی رہیں ۔۔ ! وہ بھی مسکرا کر سامنے کھڑا بڑے عزم سے بولا تھا۔ کامی حسب_عادت خاموش تھا ۔لیکن میں پریشانی سے چیخ اٹھا نہیں بابا جی میں آپ کو کبھی کہیں نہیں جانے دوں گا ۔ کیا مطلب یے آپ کا ؟ یہ اجاڑ جگہ کوئی رہنے کی جگہ ہے ۔ میں نے ان کا کندھا جھنجھوڑ دیا ۔ لیکن بابا جی نے سنی ان سنی کرتے مجھے مطلق لفٹ نہ کروائی ۔
وہ خالد ہی کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے اور بولے ۔۔
کاکا بابا کیا وقت ہوا ہے ۔؟ خالد بولا بابا جی شام کے چار بج گئے ہیں ۔ جلدی کریں ۔ وہ قدرے عجلت میں تھا اس کے جگری یار بابر کی شام کو لاھور میں مہندی تھی اور وہ باباجی کے ساتھ اسی شرط پر آیا تھا کہ ہم شام 7 بجے تک واپس لاھور آجائیں گے ۔ بابا جی ٹس سے مس نہ ہوئے اور اسی کی آنکھوں میں دیکھتے دیکھتے دوسرا سوال کر دیا ۔۔
کاکا بابا آج کیا تاریخ ہے ؟ باباجی 9 فروری 2003 ہے کیوں ؟

کاکا بابا یہ وقت تاریخ اور جگہ یاد رکھنا یہیں سے زندگی میں U ٹرن آگیا ہے ۔۔۔ ! عجب سرسراہٹ اور سنسناہٹ سی تھی اس مسکراتے اٹھکیلیاں کرتے چنچل لہجے میں ۔۔۔ اچھا بابا جی دیکھی جائے گی ۔ خالد بھی سدا کا ہٹ کا پکا تھا ۔ میں نے بھی کہہ دیا ہے آپ کو ابھی چار 5 سال ہمارے پاس ہی رہنا پڑے گا ۔ ۔ ۔ اس کا لہجہ بھی حتمی تھا ۔
اچھا دیکھتے ہیں ۔ بابا جی یہ کہتے کہتے گاڑی میں بیٹھ گئے تھے اور لاھور تک خالد کے ساتھ جانے کیا باتیں کرتے رہے اور کامی حسب_ عادت بس سنتا رہا ۔ لیکن میں بھیرہ سے لاھور تک سویا رہا۔ وہ 9 فروری 2003 کا مکالمہ تھا ۔ آج 3 فروری 2005 تھی ۔ ٹھڈی تھل للہ بابا جی کے آبائی گھر ہم کھڑے تھے ۔ باباجی اب سید شاکر عزیر ان کی اہلیہ ڈاکٹر ارم ، سلیم صاحب ان کی بیوی اور چند اور رفقاء سمیت اسلام آباد روانہ ہو رہے تھے ۔ وہ رات بلکہ علی الصبح ہی لاھور سے ہم سبھی کے ساتھ پہنچے تھے ۔ اور اب ہم سب کو واپس لاھور جانے کا کہہ کر 5 دن کے لئیے اسلام آباد جانے کا بتا کر عازم_سفر ہو گئے ۔
لیکن خالد ہار گیا ۔ جب 9 فروری 2005 کو ٹھیک شام 4بجے سب لوگ جنازہ اور تدفین کی رسومات کے بعد شدید موسلادھار بارش میں گاوں کو پلٹ گئے تو عین اسی بے آب و گیاہ ویرانے میں اس اکیلی تربت پر وہ دھاڑ سے گر کر لپٹ گیا وہ سیل_رواں سب بند توڑ گیا۔ میں نے اس بے طرح سے بلکتے کاکے پر بڑے ہونے کے ناطے روتے روتے دھونس جمائی کہ رو مت ۔۔۔ بابا جی کو رونا دھونا پسند نہیں تھا اور اسے اٹھانے کی ناکام کوشش میں خود گر گیا۔ وہ بلکتے بلکتے بولا جاوید بھائی کیا وقت ہوا ہے ۔ میں نے بھیگتی گھڑی پر دیکھا 4 بجے تھے۔ جاوید بھائی یہ وہی جگہ ہے اور آج 9 فروری ہے ۔ ۔ ۔ ! جاوید بھائی بابا جی جیت گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک سنسنی میرے رگ و پے میں دوڑ گئی ۔۔۔
بابا اتنا باخبر تھا ؟ بابا کون تھا ؟ بابا کیا ہوتا ہے ؟؟؟
ان گنت سوالوں کا جواب اب خود وقت تھا۔

مجھ سمیت سبھی وعدہ وفا کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں گرچہ آج تک ان سے نہ کوئی مل سکا نہ مل سکے گا ۔ لیکن کوشش تو فرض ہے۔
گرچہ رواں رواں مقروض ہے تیرے پیار کا ۔۔۔ !
سو بہرطور وعدہ تو نبھانا ہے ۔۔۔
گرچہ ۔۔
۔۔۔۔۔ ایک وعدہ ہے جو وفا ہوتا نہیں !

پار چناں دے دسے کلی یار دی گھڑیا گھڑیا ہاں وے گھڑیا
رات ہنیری ندی ٹھاٹھاں ماردی اڑئیے اڑئیے ہاں نے اڑئیے

کچی میری مٹی کچا میرا نام نی ، ہاں میں ناکام نی
کچیاں دا ہوندا کچا انجام نی ، اے گل عام نی میں ناکام نی
کچیاں تے رکھئیے نہ امید پار دی اڑئیے اڑئیے ہاں نی اڑئیے

ویکھ چھلاں پیندیاں نہ چھڈیں دل وے ، ہاں لے کے ٹھل وے
اج ماہینوال نوں میں جاناں مل وے ، ہاں اے ہو دل وے ۔۔
یار نوں ملے گی اج لاش یار دی ، گھڑیا گھڑیا ہاں وے گھڑیا ۔

باباجی ہم آ رہے ہیں !
انشاءاللہ کریم

(سید شاکر عزیر وارث_قلندر پاک( ع۔ر ) و صاحبزدگان سید منشاء عباس بخاری و سید فرحت عباس بخاری ( سجادہ نشین ) کے متفقہ اعلان کے مطابق سالانہ عرس ہر سال 6-8 فروری کو منایا جائے گا )

Syed Mansha Bukhari Syed Mansha Bukhari Farhat Ali Shah Ishrat Aliya Syed Muhammad Arif Hussain Shehbaz Ali Syeda Tahira Batool Kazmi M Younis Ansari Shahida Shahid Zeba Zahid Faiza Pirzada Mamoona Imran Muhammad Imran Ahmed Muhammad Kamran Ahmed Muhammad Khalid Ahmad Muhammad Tariq Bershgal Atique Ayesha Akhtar Chaudary Herjaaee Maan Aziz Shahbaz Ayaz Shah Syed Sajid Ali Billa Shehbaz Lahori Maharaj Seyd Jugno Shah Maharaj Seyd Jugno Shah

See More
Image may contain: text
BABA KAKI aur MAin بابا کاکی اور میں

اونچے وہی ہیں جنہیں اللہ نے خود بلندیوں سے نوازا ۔ ۔ ۔ !

Image may contain: text
Image may contain: text
Image may contain: text
BABA KAKI aur MAin بابا کاکی اور میں‎ added 3 new photos.

" بغلول جھلا "

ماں جی اور بھابھی کا پھر پریشان کن فون آگیا کہ تمہارا دوست صبح سے پھر غائب ہے ۔ وہ میرا ہم جماعت دوست تھا ۔ میں سائیکٹرسٹ بنا وہ کنسلٹنٹ فزیشن ...۔۔۔ لیکن جب سے اس صورت_ رحمن والے بابا سے ملا ہم ساتھی ڈاکٹر مذاق سے اسے پاگل ڈاکٹر کہتے تھے ۔
لیکن بابا کے اس دنیا سے پردہ کرنے کے بعد تو وہ جھلا ہی ہو گیا ۔ ہردم اسی کی باتیں یا بھاگم بھاگ اس کے دربار پہنچ کر تربت سے لپٹ جاتا ۔۔ شروع میں تو سب وقتی ابال سمجھتے رہے لیکن وقت گزرتے ساتھ ساتھ اس کے اس مرض میں شدت ہی آئی۔ نا صرف اس کے گھر والے بلکہ خود بابا کے گھر والے ہی نہیں باہر والے بھی تنگ ہونے لگے تھے۔ کسی نے شرک و بدعت اور قبر پرستی کے گناہ سے ڈرایا اور کوئی اسے وراثت کا جھوٹا دعویدار سمجھا ۔ جتنے منہ اتنی باتیں ۔ لیکن مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی یا دعا کی ۔
میں نے بھی آج اس سے منہ در منہ ٹکر لینے کی ٹھان لی کہ شائد ایسے جھنجھوڑنے سے ہی ہوش میں آ جائے ۔ سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ آخر یہ کیا دیوانہ پن ہے ۔ آج آر یا پار ۔ یہ روز روز کی چخ چخ اور دوڑ دھوپ سے میں بھی اب تنگ پڑ گیا تھا۔
حسب_توقع وہ وہیں تربت سے لپٹا اسے ہلکے ہلکے تھپک رہا تھا۔۔۔ اللہ کاکا سو جا ۔۔ اللہ کاکا سو جا ۔

میں چیخا تمہیں شرم آتی ہے ؟
جوابا" وہ بس شرما کے مسکرا دیا ۔۔
آخر کون ہے یہ تمہارا ؟
۔۔ بابا جی !
کیا ہوتا ہے بابا جی؟
۔۔ عشق !
یہ کیا جواب ہوا ؟
تجھے پتا ہے یہ گناہ ہے شرک ہے بدعت ہے جو تو کر رہا ہے ۔ کیا لینے آتا ہے تو بھاگ بھاگ کے یہاں ؟
۔۔ لین دین تو کچھ نہیں ۔ بس دل کہتا ہے سو آتا ہوں ۔ سو آوں گا ۔
لیکن یہ گناہ ہے ۔
۔۔ تو دل والے سے پوچھو ۔ وہ اپنے مزے میں مست مسکرا دیا۔
اچھا یہ تم تربت سے کیوں لپٹتے ہو ؟
۔۔ تم ماں سے کیوں لپٹتے ہو ؟
تو یہ تمہاری ماں ہے ؟
۔۔ بابا سب کچھ ہے۔
پاگل تجھے پتہ ہے تو کیا کہہ رہا ہے ؟ سب کچھ کا مطلب ؟
۔۔ سب کچھ !
کیا مطلب سب کچھ ؟
قطب غوث ولی ابدال نبی یا کہہ خدا ؟ تو کہنا کیا چاھتا ہے ؟ کیا وہ خدا ہے ؟
مجھے غصہ چڑھ گیا ۔۔ یہ تیرا خدا ہے ؟ میں گلا پھاڑ کےچیخا تھا
( بلکہ دل تو کیا اس دیوانے کا سر پھاڑ دوں )
۔۔ نہیں تو ۔
لیکن تم نے تو اسے خدا بنا لیا ہے کہ نہیں ؟
۔۔ سنو تم میں سے کسی نے اپنا خدا دیکھا ہے ؟
نہیں تو ۔ کیا مطلب ؟
۔۔میں نے بھی تمہارا خدا نہیں دیکھا تو پھر میں کیسے کہہ دوں یہ ویسا ہے ۔
اچھا لوگ تو کہتے ہیں بابا قلندر تھا ۔
۔۔ کہنے دو۔
تو کیا تم اسے قلندر نہیں مانتے ؟
۔۔ وہ خود قلندر بنانے والا ہے ۔ میں اس کے بنائے ہوئے بہت سے قلندروں سے تمہیں ملوا سکتا ھوں ۔
تو تم اسے قلندر بھی نہیں مانتے ؟
۔۔ یہ سب اس کی توہین ہے ۔
تو پھر وہ کیا ہے ؟
۔۔ بابا جی !
تو تم اس کے وارث ھو ؟
۔۔ نہیں ! میں اللہ نہیں ہوں ۔

کیا مطلب ؟ اوہ پاگل میرا مطلب کیا تم اس کے گدی نشین ھو ؟
۔۔ نہیں۔ وہ بے ایمان نہیں ہے ۔

کیا مطلب ہے تمہارا ؟
۔۔ جب بابا نے سب وار دیا۔
تو گدی بچانے کی بے ایمانی کیسے کرسکتا ہے وہ ؟
اچھا تو تم اس کے کون ہو ؟
۔۔ کاکا بابا !
وہ مزے سے پھر تربت تھپکنے لگا ۔ اللہ کاکا سو جا ۔۔ اللہ کاکا سو جا ۔۔ اور خود سو گیا۔
ہم سوچنے لگے اس بےحد پاگل پہ کیا حد لگائیں ؟
کیا بے حد پہ کوئی حد لگتی بھی ہے ؟

بغلول جھلے نے خود مجھے چکرا کے رکھ دیا تھا۔

See More
Image may contain: 1 person, eyeglasses and closeup
Image may contain: text
Muhammad Javed added 2 new photos.

قران کی موسیقی

قران سے متعلق ایک ایسی عجیب و غریب حقیقت جو انتہائ حیران کن بھی ہے اور متاثر کن بھی۔
کچھ منٹ نکال کر پورا پڑھ لیجئے۔ حیران آپ بھی رہ جائیں گے۔۔ ا...ور شاید دل بھی بھر آئے۔ شکریہ

۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب ”محاضرات قرآنی “کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا۔ غازی صاحب لکھتے ہیں:
” آپ نے ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نام سنا ہوگا، انہوں نے خود براہ راست مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ غالباً 1958-1957ء میں ایک شخص ان کے پاس آیا۔ ان کی زندگی کا یہ ایک عام معمول تھا کہ ہر روز دو چار لوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔ وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔
ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت ان کو کلمہ پڑھوایا اور اسلام کا مختصر تعارف ان کے سامنے پیش کردیا۔ اپنی بعض کتابیں انہیں دے دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی شخص ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تھا تو وہ اس سے یہ ضرور پوچھا کرتے تھے کہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا ہے؟
1948ء سے 1996ء تک یہ معمول رہا کہ ڈاکٹر صاحب کے دست مبارک پر اوسطاً دو افراد روزانہ اسلام قبول کیا کرتے تھے۔عموماً لوگ اسلام کے بارے میں اپنے جو تاثرات بیان کیا کرتے تھے ،وہ ملتے جلتے ہوتے تھے۔ ان میں نسبتاً زیادہ اہم اور نئی باتوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے پاس قلم بند کرلیا کرتے تھے۔ اس شخص نے جو بات بتائی، وہ ڈاکٹر صاحب کے بقول بڑی عجیب وغریب اور منفرد نوعیت کی چیز تھی اور میرے لیے بھی بے حد حیرت انگیز تھی۔ اس نے جو کچھ کہا ،اس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا ارشاد تھا کہ میں اسے بالکل نہیں سمجھا اور میں اس کے بارے میں کوئی فنی رائے نہیں دے سکتا۔
اس شخص نے بتایا: میرا نام ژاک ژیلبیر ہے۔ میں فرانسیسی بولنے والی دنیا کا سب سے بڑا موسیقار ہوں۔ میرے بنائے اور گائے ہوئے گانے فرانسیسی زبان بولنے والی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت میں جانے کا موقع ملا۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں سب لوگ جمع ہوچکے تھے اور نہایت خاموشی سے ایک خاص انداز کی موسیقی سن رہے تھے۔
جب میں نے وہ موسیقی سنی تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ موسیقی کی دنیا کی کوئی بہت ہی اونچی چیز ہے، جو یہ لوگ سن رہے ہیں۔ میں نے خود آوازوں کی جو دھنیں اور ان کا جو نشیب وفراز ایجاد کیا ہے ،یہ موسیقی اس سے بھی بہت آگے ہے، بلکہ موسیقی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی دنیا کو بہت وقت درکار ہے۔ میں حیران تھا کہ آخر یہ کس شخص کی ایجاد کردہ موسیقی ہوسکتی ہے اور اس کی دھنیں آخر کس نے ترتیب دی ہیں۔جب میں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ یہ دھنیں کس نے بنائی ہیں تو لوگوں نے مجھے اشارہ سے خاموش کردیا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پھر یہی بات پوچھی، لیکن وہاں موجود حاضرین نے مجھے خاموش کردیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے دوران میں وہ فن موسیقی کی کچھ اصطلاحات بھی استعمال کررہا تھا، جن سے میں واقف نہیں، کیوں فن موسیقی میرا میدان نہیں۔
قصہ مختصر جب وہ موسیقی ختم ہوگئی اور وہ آواز بند ہوگئی تو پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ سب کیا تھا ۔لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں تھی، بلکہ قرآن مجید کی تلاوت ہے اور فلاں قاری کی تلاوت ہے۔ موسیقار نے کہا کہ یقینا یہ کسی قاری کی تلاوت ہوگی اور یہ قرآن ہوگا، مگر اس کی یہ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے اور یہ دھنیں کس کی بنائی ہوئی ہیں؟ وہاں موجود مسلمان حاضرین نے بیک زبان وضاحت کی کہ نہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ قاری صاحب موسیقی کی ابجد سے واقف ہیں۔اس موسیقار نے جواب میں کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں لیکن اسے یقین دلایا گیا کہ قرآن مجید کا کسی دھن سے یا فن موسیقی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ یہ فن تجوید ہے اور ایک بالکل الگ چیز ہے۔ اس نے پھر یہ پوچھا کہ اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ تجوید اور قراء ت کا یہ فن کب ایجاد ہوا؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ یہ فن تو چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو قرآن مجید عطا فرمایا تھا تو فن تجوید کے اصولوں کے ساتھ ہی عطا فرمایا تھا۔ اس پر اس موسیقار نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں کو قرآن مجید اسی طرح سکھایا ہے جیسا کہ میں نے ابھی سنا ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس لیے کہ فن موسیقی کے جو قواعد اور ضوابط اس طرز قراء ت میں نظر آتے ہیں ،وہ اتنے اعلیٰ وارفع ہیں کہ دنیا ابھی وہاں تک نہیں پہنچی۔
ڈاکٹر حمیداللہ صاحب فرماتے تھے کہ میں اس کی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ بعد میں ،میں نے اور بھی قراء کی تلاوت قرآن کو سنا، مسجد میں جاکر سنا اور مختلف لوگوں سے پڑھواکر سنا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اگر یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس کے لانے والے یقینا اللہ کے رسول تھے، اس لیے آپ مجھے مسلمان کرلیں۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کرلیا لیکن میں نہیں جانتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا وہ کس حد تک درست تھا، اس لیے کہ میں اس فن کا آدمی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میں نے ایک الجزائری مسلمان کو جو پیرس میں زیر تعلیم تھا، اس نئے موسیقار مسلمان کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کردیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ دونوں میرے پاس آئے اور کچھ پریشان سے معلوم ہوتے تھے۔الجزائری معلم نے مجھے بتایا کہ وہ نو مسلم قرآن مجید کے بارے میں کچھ ایسے شکوک کا اظہار کررہا ہے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ جس بنیاد پر یہ شخص ایمان لایا تھا ،وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی اب اس کے شکوک کا میں کیا جواب دوں گا اور کیسے دوں گا۔لیکن اللہ کا نام لے کر پوچھا کہ بتاؤ تمہیں کیا شک ہے؟ اس نومسلم نے کہا کہ آپ نے مجھے یہ بتایا تھا اور کتابوں میں بھی میں نے پڑھا ہے کہ قرآن مجید بعینہ اسی شکل میں آج موجود ہے جس شکل میں اس کے لانے والے پیغمبر علیہ الصلاة والسلام نے اسے صحابہ کرام کے سپرد کیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اب اس نے کہا کہ ان صاحب نے مجھے اب تک جتنا قرآن مجید پڑھایا ہے ،اس میں ایک جگہ کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور حذف ہوگئی ہے۔اس نے بتایا کہ انہوں نے مجھے سورہٴ نصر پڑھائی ہے اور اس میں افواجاً اور فسبح کے درمیان خلا ہے۔ جس طرح انہوں نے مجھے پڑھایا ہے ،وہاں افواجاً پر وقف کیا گیا ہے۔وقف کرنے سے وہاں سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے جو نہیں ٹوٹنا چاہیے جبکہ میرا فن کہتا ہے کہ یہاں خلا نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ سن کر میرے پیروں تلے زمیں نکل گئی، اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شبہ کا جواب کیا دیں اور کس طرح مطمئن کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے فوراً دنیائے اسلام پر نگاہ دوڑائی تو کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہیں آیا جو فن موسیقی سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور تجوید بھی جانتا ہو۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی شش وپنج کے بعد بالکل اچانک اور یکایک میرے ذہن میں ایک پرانی بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ اپنے بچپن میں جب مکتب میں قرآن مجید پڑھا کرتا تھا تو میرے معلم نے مجھے بتایا تھا کہ افواجاً پر وقف نہیں کرنا چاہیے بلکہ افواجاً کو بعد کے لفظ سے ملا کر پڑھا جائے۔ ایک مرتبہ میں نے افواجاً پر وقف کیا تھا تو اس پر انہوں نے مجھے سزا دی تھی اور سختی سے تاکید کی تھی کہ افواجاً کو آگے ملا کر پڑھا کریں۔میں نے سوچا کہ شاید اس بات سے اس کا شبہ دور ہوجائے اور اس کو اطمینان ہوجائے۔ میں نے اسے بتایا کہ آپ کے جو پڑھانے والے ہیں، وہ تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔ دراصل یہاں اس لفظ کو غنہ کے ساتھ آگے سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ افواجاً فسبح۔ ڈاکٹر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ وہ خوشی سے اچھل کر کھڑا ہوگیا اور مجھے گود میں لے کر کمرے میں ناچنے لگا اور کہنے لگا کہ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔
یہ سن کر اس کو میں نے ایک دوسرے قاری کے سپرد کردیا جس نے اس شخص کو پورے قرآن پاک کی تعلیم دی۔ وہ وقتاً فوقتا ًمجھ سے ملتا تھا اور بہت سردھنتا تھا کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہ بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب اسلامی زندگی گزارنے کے بعد 1970ء کے لگ بھگ اس کا انتقال ہوگیا۔
اس واقعے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی جو صوتیات ہے، یہ علم وفن کی ایک ایسی دنیا ہے جس میں کوئی محقق آج تک نہیں اترا ہے اور نہ ہی قرآن مجید کے اس پہلو پر اب تک کسی نے اس انداز سے غور وخوض کیا ہے۔
(محاضرات قرآنی ، ڈاکٹر محمود احمد
-بشکریہ )

See More
No automatic alt text available.
Image may contain: bird
Image may contain: text
Image may contain: one or more people
Muhammad Javed added 4 new photos.

میرے لئیے ان کا اتنا بتا دینا ہی کافی تھا کہ ۔۔۔
"" وہ سید ہیں "" یہ نسبت ہی میرے لئے معتبر ہے ۔ لیکن پھر بھی وہ ہمیشہ فقرہ مکمل کرتے نجیب الطرفین حسبی نسبی شج...رے والے سید ہیں ۔
لیکن ۔۔۔

اپنے بیٹے کی شادی میں اس بدنام_زمانہ "" حسبی نسبی شجرہ در شجرہ بدعنوان ترین "" حکمران کے شمولیت کرنے پر جس والہانہ انداز سے گھر کی بہو بیٹیوں سمیت موصوف کے ساتھ فوٹو سیشن اور سوشل میڈیا پر فخرا" اپ لوڈ کرنا ۔ پھر ہر گفتگو میں حیلے بہانے ان کی آمد کا ذکر کہ وہ ہمارے گھر آئے تھے ۔ مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا ہے کہ جس کی آمد سے "" سادات """ کی اتنی عزت بڑھی ۔۔۔ وہ تو بخشا گیا ۔۔۔ کیا خیال ہے ؟

See More
Muhammad Javed added 18 new photos.

کُتّوں کی دُعا ۔۔۔۔ !

پاک سر زمین شاد باد پاکستانی قومی ترانے
اور ’’شاہنامہ اسلام‘‘ جیسی مشہور و معروف کتاب کے خالق
ابو الاثر حفیظ جالندھری مرحوم اپنی آپ بیت...ی بیان فرماتے ہیں
کہ میری عمر بارہ سال تھی ۔میرا لحن داؤدی بتایا جاتا اور نعت خوانی کی محفلوں میں بلایا جاتا تھا۔ اس زمانے میں شعر و شاعری کے مرض نے بھی مجھے آلیا تھا۔ اس لئے اسکول سے بھاگنے اورگھر سے اکثر غیر حاضر رہنے کی عادت بھی پڑ چکی تھی ۔
میری منگنی لاہور میں میرے رشتے کی ایک خالہ کی دُختر سے ہو چکی تھی۔ میرے خالو نے جب میری آوارگی کی داستان سُنی تو سیر و تفریح کے بہانے محترم نے جالندھر سے مجھے ساتھ لیا اور محض سیر و تفریح کا سبز باغ دکھلانے شہر گجرات کے قریب قصبہ جلال پور جٹاں میں پہنچ گئے ۔ اصل سبب مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ہونے والے خُسر اورفی الحال خالُو میرے متعلق اپنے دینی مرشد سے تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ وہ بزرگ ان کی بیٹی کی شادی مجھ ایسے آوارہ سے کردینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔
یہ پُر انوار پیر و مرشد ایک کہنہ سال بزرگ تھے۔ اُن کے اِردگرد مؤدب بیٹھے ہوئے دوسرے شُرفا سے پہلے ہی دن میں نے نعت سنا کر واہ واہ سبحان اللہ کے تحسین آمیز کلمات سُنے ۔
ہر روز نمازِ عشائ کے بعد میلاد کی بزم اورنعت خوانی کا اہتمام ہوتا۔ دو مہینے اسی جگہ گزرے۔
اس سال ساون سُوکھا تھا۔ بارش نہیں ہو رہی تھی لوگ بارش کے لئے میدانوں میں جاکر نمازِ استسقائ ادا کرتے تھے ۔ بچّے ، بوڑھے ، جوان مرد و زن دعا کرتے لیکن گھنگھورگھٹا تو کیا کوئی معمولی بدلی بھی نمودار نہ ہوتی تھی ۔یہ ہے پس منظر اس واقعہ کا جسے میں عجوبہ کہتا ہوں۔ جسے بیان کردینے کے لئے نہ جانے کیوں مجبور ہو گیا ہوں۔ پہلے یہ جان لیجئے کہ وہ محترم بزرگ کون تھے؟ مجھے یقین ہے ان کا خاندان آج بھی جلال پور جٹاں میں موجود ہے ۔ ان بزرگ کا نام نامی حضرت قاضی عبدالحکیم رحمۃ اللہ علیہ تھا اَسی پچاسی برس کی عمر تھی دُور دُور سے لوگ ان سے دینی اور دُنیوی استفادہ کی غرض سے آتے تھے۔ یہ استفادہ دینی کم دنیوی زیادہ تھا۔ آنے والے اوردو تین دن بعد چلے جانے والے گویا ایک تسلسلِ امواج تھا۔ کثرت سوداگروں اورتجارت پیشہ لوگوں کی تھی ۔
میری نعت خوانی کے سبب حضرت مجھے بسا اوقات اپنے مصلّے کے بہت قریب بٹھائے رکھتے تھے۔ ایک دن میری طرف دیکھ کر حضرت نے کہا’’برخوردار تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی سے مجھے خوش کرتے ہو ، تمہارے لئے میرے پاس بس دعائیں ہی ہیں۔ انشائ اللہ تم دیکھو گے کہ آج تو تم دوسروں کی لکھی ہوئی نعتیں سناتے ہو، لیکن ایک دن تمہاری لکھی ہوئی نعتیں لوگ دوسروں کو سنایا کریں گے ۔‘‘
اس وقت بھلا مجھے کیا معلوم تھا کہ سرکارِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ محّب صادق میری زندگی کا مقصود بیان کررہے ہیں۔ بہر صورت یہ تواُن کی کرامتوں میں سے ایک عام بات ہے جس عجوبے کے اظہار نے مجھ سے آج قلم اٹھوایا وہ کرامتوں کی تاریخ میں شاید بے نظیر ہی نظر آئے ۔
ایک دن حضرت قاضی صاحب کے پاس میں اوران کے بہت سے نیاز مند بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں میرے خالو بھی تھے۔ یہ ایک بڑا کمرہ تھا اورحضرت مصلّے پر بیٹھے تھے ۔ السّلام علیکم کہتے ہوئے کندھوں پر رومال ڈالے سات آٹھ مولوی طرز کے معتبر آدمی کمرے میں داخل ہوکر قاضی صاحب سے مخاطب ہوئے ۔ قاضی صاحب نے وعلیکم السلام اوربسم اللہ کہہ کر بیٹھ جانے کاایما فرمایا۔ہم سب ذرا پیچھے ہٹ گئے اورمولوی صاحبان تشریف فرما ہوگئے۔
ان میں سے ایک صاحب نے فرمایا کہ حضرت !ہمیں ہزاروں مسلمانوں نے بھیجا ہے ۔ یہ چار صاحبان گجرات سے اور یہ وزیر آباد سے آئے ہیں۔ میں ، آپ جانتے ہیں ڈاکٹر ٹیلر کے ساتھ والی مسجد کا امام ہوں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ آپ اس ٹھنڈے ٹھار گوشے میں آرام سے بیٹھے رہتے ہیں۔ باہر خلق خدا مررہی ہے ، نمازی اور بے نماز سب بارانِ رحمت کے لئے دعائیں کرتے کرتے ہار گئے ہیں ۔ ہر جگہ نمازِ استسقائ ادا کی جارہی ہے ۔ کیا آپ اورآپ کے ان مریدوں کے دل میں کوئی احساس نہیں ہے کہ یہ لوگ بھی اُٹھ کر نماز میں شرکت کریں اورآپ بھی اپنی پیری کی مسند پر سے اُٹھ کر باہر نہیں نکلتے ،کہ لوگوں کی چیخ و پکار دیکھیں، اللہ تعالٰی سے دعا کریں تاکہ وہ پریشان حال انسانوں پر رحم کرے اور بارش برسائے۔
میرے قریب سے ایک شخص نے چپکے سے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا ’’یہ وہابی ہے ‘‘۔
میں اُن دنوں وہابی کا مفہوم نہیں سمجھتا تھا ۔ صرف اتنا سنا تھا کہ یہ صوفیوں کو بُرا سمجھتے ہیں اور نعت خوانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب سلام پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ تعظیم کے لئے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ کھڑے ہونے والوں کو بدعتی کہتے ہیں۔
مسکراتے ہوئے قاضی صاحب نے پوچھا’’حضرات! آپ فقیر سے کیا چاہتے ہیں‘‘۔ توان میں سے ایک زیادہ مضبوط جُثے کے مولوی صاحب نے کڑک کر فرمایا ’’اگر تعویذ گنڈا نہیں تو کچھ دُعا یہ کرو۔ سُنا ہے پیروں فقیروں کی دُعا جلد قبول ہوتی ہے۔‘‘
یہ الفاظ مجھ نادان نوجوان کو بھی طنزیہ محسوس ہوئے تاہم قاضی صاحب پھر مسکرائے اورجواب جو آپ نے دیا وہ اس طنز کے مقابلے میں عجیب و غریب تھا۔
قاضی صاحب نے فرمایا ’’آپ کُتّوں سے کیوں نہیں کہتے کہ دُعا کریں‘‘۔ یہ فرمانا تھا کہ مولوی غضب میں آگئے اور مجھے بھی اُن کا غضب میں آنا قدرتی معلوم ہوا۔ چنانچہ وہ جلد جلد بڑبڑاتے ہوئے اُٹھے اور کوٹھڑی سے باہر نکل گئے۔
قاضی صاحب کے اِردگرد بیٹھے ہوئے نیاز مند لوگ ابھی گم صم ہی تھے کہ مولوی صاحبان میں سے جو بہت جَیّد نظر آتے تھے ، دوبارہ کمرے میں داخل ہوئے ، اُن میں سے ایک نے کہا’’حضرت! ہم تو کُتّے کی بولی نہیں بول سکتے ۔ آپ ہی کُتّوں سے دُعا کرنے کے لئے فرمائیے۔‘‘
مجھے اچھی طرح یاد ہے اورآج تک میرے سینے پر قاضی صاحب کا یہ ارشاد نقش ہے۔
حضرت ! پہلے ہی کیوں نہ کہہ دیا ، کل صبح تشریف لائیے کُتّوں کی دُعا ملاحظہ فرمائیے’’!‘‘مولوی صاحبان طنزاً مسکراتے ہوئے چل دئیے اور میں نے اُن کے الفاظ اپنے کانوں سے سُنے کہ ’’یہ صوفی لوگ اچھے خاصے مسخرے ہوتے ہیں۔‘‘
جب مولوی صاحبان چلے گئے تو میرے خالو سے قاضی صاحب نے فرمایا کہ ’’ذرا چھوٹے میاں کو بلائیے۔ ‘‘ چھوٹے قاضی صاحب کانام اب میں بھولتا ہوں۔ مہمانوں کی آؤ بھگت اورقیام و طعام کا سارا انتظام انہی کے سِپرد تھا ۔ انواع و اقسام کے کھانے اور دیگیں قاضی صاحب کی حویلی کی ڈیوڑھی اورصحن میں پکتی رہتی تھیں۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد تھی۔ جس میں عشائ کی نماز کے بعد نعت خوانی ہوا کرتی تھی اورمیں ذوق و شوق سے یہاں نعت خوانی کیا کرتا تھا۔
میرے خالو ان کے چھوٹے بھائی کو لائے تو قاضی صاحب نے ان سے کہا’’ میاں کل صبح دو تین سو کُتّے ہمارے مہمان ہوں گے آپ کو تکلیف تو ہوگی بہت سا حلوہ راتوں رات تیار کرا لیجئے۔ ڈھاک کے پتوں کے ڈیڑھ دو سو دَونے شام ہی کو منگوا کر رکھ لیجئے گا۔ ڈیوڑھی کے باہر ساری گلی میں صفائی بھی کی جائے۔ کل نماز فجر کے بعد ہم خود مہمانداری میں شامل ہوں گے۔‘‘
چھوٹے قاضی صاحب نے سر جھکایا اگر چہ ان کے چہرے پر تحیر کے آثار نمایاں تھے۔ میرے لئے تویہ باتیں تھی ہی پُراسرار ، لیکن میرے خالو مسجد میں بیٹھ کر قاضی صاحب کے دوسرے مستقل نیاز مندوں اورحاضر باشوں سے چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ کل صبح واقعی کچھ ہونے والا ہے۔
میں نے تین چار کڑاہے حویلی کے صحن میں لائے جاتے دیکھے، یہ بھی دیکھا کہ کشمش، بادام اور حلوے کے دوسرے لوازمات کے پُڑے کھل رہے ہیں۔ سُوجی کی سینیاں بھری رکھی ہیں گھی کے دو کنستر کھولے گئے۔ واقعی یہ تو حلوے کی تیاری کے سامان ہیں۔ ناریل کی تُریاں کاٹی جارہی ہیں اورسب آدمی تعجب کر رہے ہیں کہ کُتّوں کی مہمانداری وہ بھی حلوے سے ؟
صبح ہوئی نماز فجر کے بعد میں نے دیکھا کہ قاضی صاحب قبلہ دو تین آدمیوں کو ساتھ لئے ہوئے اپنی ڈیوڑھی سے نکل کر گلی میں اِدھر اُدھر گھومنے لگے چند ایک مقامات پر مزید صفائی کے لئے فرمایا۔میری ان گناہ گار آنکھوں نے یہ بھی دیکھا کہ اس گلی میں دونوں طرف یک منزلہ مکانوں کی چھتوں پر حیرت زدہ لوگ کُتّوں کی ضیافت کا کرشمہ دیکھنے کے لئے جمع ہونا شروع ہوگئے تھے ۔ اورجلال پور جٹاں میں سے مختلف عمر کے لوگ اس گلی میں داخل ہورہے تھے۔ وہ قاضی صاحب کو سلام کرکے گلی میں دیواروں کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوجاتے اورجانے کیا بات تھی کہ یہ سب اونچی آواز سے باتیں نہیں کرتے تھے۔ کوٹھوں پر عورتیں اور بچے تھے۔
ہم دونوں قاضی صاحب کا بھتیجا محمد اکرام اورمیں مسجد کی چھت پر چڑھ گئے اور یہاں سے گلی میں ہونے والا عجیب و غریب تماشا دیکھنے لگے ۔
درویش طرز کے چند آدمی حلوے سے بھری ہوئی سینیاں لاتے جارہے تھے ۔ اور قاضی صاحب چمچے سے ان دَونوں کو پُر کرتے پھر دونوں ہاتھوں سے دَونا اٹھاتے اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مین گلی کے درمیان رکھتے جاتے۔ جب پوری گلی میں حلوے بھرے دَونے رکھے جا چکے تو اُنہوں نے بلند آواز سے دَونوں کو گِنا۔ مجھے یقین ہے کہ گلی میں دیواروں کی طرف پشت کئے کھڑے سینکڑوں لوگوں نے قاضی صاحب کا یہ فقرہ سُنا ہوگا:’’کُل ایک سو بائیس(۱۲۲)ہیں۔‘‘
یہ کام مکمل ہوا ہی تھا کہ زور زور سے کچھ ایسی آوازیں آنے لگیں جن کو میں انسانی ہجوم کی چیخیں سمجھا ۔ مجھے اعتراف ہے کہ اُس وقت مجھے اپنے بدن میں کپکپی سی محسوس ہونے لگی، میں نے گلی میں ہر طرف دیکھا تو عورتیں اور بچے اورمرد گلی میں اور کوٹھوں سے چیخ رہے تھے۔
کیوں چیخ رہے تھے اس لئے کہ ایک کُتّا جس کو، جب سے میں یہاں وارد ہوا تھا، حویلی کے اِردگرد چلتے پھرتے اورمہمانوں کا بچا کچھا پھینکا ہوا کھانا کھاتے اکثر دیکھا تھا، بہت سے کُتّوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے گلی کی مشرقی سمت سے داخل ہوا۔ جو بے شمار کتّے اس کے پیچھے پیچھے گلی میں آئے تھے ان میں سے ایک بھی بھونک نہیں رہا تھا بھونکنا توکیا اس قدر خلقت کو گلی میں کھڑے دیکھ کر کوئی کتّا خوفزدہ نہ تھا۔ اورنہ کوئی غرّا رہا تھا۔ کتّے دو دو تین تین آگے پیچھے بڑے اطمینان کے ساتھ گلی کے اندر داخل ہورہے تھے۔
کتّوں کی یہ پُراسرار کیفیت دیکھ کر ساری خلقت نہ صرف پریشان تھی بلکہ دہشت زدہ بھی ، پھر ایسی دہشت آج تک مجھے بھی محسوس نہیں ہوئی۔
قاضی صاحب اگر اپنے ہونٹوں پر انگشتِ شہادت رکھ کر لوگوں کو خاموش رہنے کی تلقین نہ کرتے تو میں سمجھتا ہوں کہ گلی میں موجود سارا ہجوم ڈر کر بھاگ جاتا۔
اس گلی والا وہ کُتّا جس کا میں ذکر کر چکا ہوں قاضی صاحب کے قدموں میں آکر دُم ہلانے لگا۔ قاضی صاحب نے جو الفاظ فرمائے وہ بھی مجھے حرف بہ حرف یاد ہیں۔ فرمایا’’بھئی کالو! تم تو ہمارے قریب ہی رہتے ہو، دیکھو، انسانوں پر اللہ تعالٰی رحمت کی بارش نہیں برسا رہا، اللہ کی اور مخلوق بھی ہم انسانوں کے گناہوں کے سبب ہلاک ہو رہی ہے ۔ اپنے ساتھیوں سے کہو، سب مل بیٹھ کر یہ حلوہ کھائیں پھر اللہ سے دعا کریں کہ رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے بادلوں کو اجازت دے تاکہ وہ پیاسی زمین پر برس جائیں۔‘‘
یہ فرما کر حضرت قاضی صاحب اپنی ڈیوڑھی کے دروازے میں کھڑے ہوگئے اورمیں کیا سبھی نے ایک عجوبہ دیکھا۔
خدارا یقین کیجئے کہ ہر ایک حلوہ بھرے دَونے کے گِرد تین تین کُتّے جُھک گئے اور بڑے اطمینان سے حلوہ کھانا شروع کر دیا۔ ایک بھی کُتّا کسی دوسرے دَونے یا کتّے پر نہیں جھپٹا، اورنہ کوئی چیخا چلایااورجس وقت یہ سب کُتّے حلوہ کھار رہے تھے ایک اور عجیب و غریب منظر دیکھنے میں آیا کہ وہ کتا جو اس گلی کا پرانا باسی اوران تمام کتّوں کو یہاں لایا تھا خود نہیں کھا رہا تھا بلکہ گلی میں مسلسل ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک گھومتا رہا، جیسے وہ ضیافت کھانے والے کتّوں کی نگرانی کررہا ہو یا میزبانی ۔
میں نے اسکول میں اپنے ڈرل ماسٹر صاحب کو طالب علموں کو اِسی طرح نگرانی کرتے وقت گھومتے دیکھا تھا۔ کالو کا انداز معائنہ بڑا پُر شکوہ تھا جس پر مجھے اپنا ڈرل ماسٹر یاد آگیا۔ کیونکہ ہم میں سے کوئی لڑکا ماسٹر صاحب کے سامنے ہلتا تک نہیں تھا۔
تھوڑی دیر میں سب کُتّے حلوہ کھا کر فارغ ہوگئے بے شمار لوگوں نے ہجوم میں سے صرف حضرت قاضی صاحب کی آواز ایک مرتبہ پھر سنائی دی۔ وہ فرمارہے تھے،’’لو بھئی کالو! ان سے کہو کہ اللہ تعالٰی سے دُعا کریں تاکہ خدا جلد ہی انسانوں پر رحم کرے‘‘۔
یہ سنتے ہی میں نے غیر ارادی طور پر ایک طرف دیکھا تو کل والے مولوی صاحبان ایک سمت کھڑے اس قدر حیرت زدہ نظر آئے جیسے یہ لوگ زندہ نہیں یا سکتے کے عالم میں ہیں۔
اب صبح ، کے نو دس بجے کا وقت تھا، ہر طرف دھوپ پھیل چکی تھی ، تپش میں تیزی آتی جارہی تھی ۔ جب قاضی صاحب نے ’’کالو’’ کو اشارہ کیا۔ حیرت انگیز محشر بپا ہوا۔ تمام کتّوں نے اپنا اپنا مُنہ آسمان کی طرف اُٹھالیا اور ایک ایسی متحد آواز میں غُرانا شروع کیا جو میں کبھی کبھی راتوں کو سُنتا تھا۔ جسے سُن کر میری دادی کہا کرتی تھیں،’’کُتّا رو رہا ہے خدا خیر کرے‘‘۔
آسمان کی طرف تھوڑی دیر مُنہ کئے لمبی غراہٹوں کے بعد یہ کتّے جو مشرقی سمت سے اس کوچے میں داخل ہوئے تھے۔ اب مغرب کی طرف چلتے گئے۔
میں اور قاضی اکرام ہی نہیں جلال پور جٹاں کے سبھی مردوزن کتّوں کو گلی سے رخصت ہوتے دیکھ رہے تھے۔ اورخالی دَونے آسمان کی طرف منہ کھولے گلی میں بدستور پڑے تھے۔ (یہ دستِ دُعا تھے)۔
جونہی کُتّے گلی سے نکلے قاضی صاحب کے ہاتھ بھی دُعا کے لئے اُٹھ گئے اور ان کی سفید براق داڑھی پر چند موتی سے چمکنے لگے یقیناً یہ آنسو تھے۔
پَس منظر بیان ہو چکا اب منظر ملاظہ فرمائیے۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ میں جو آج ستّر برس اور گیارہ میہنے کابوڑھا بیمار ہوں خدا عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بادل گرجا اور مغرب سے اس تیزی کے ساتھ گھٹا اُمڈی کہ گلی ابھی پوری طرح خالی بھی نہ ہوئی تھی ، مرد ،عورتیں ، بچے بالے ابھی کوٹھوں سے پوری طرح اُترنے بھی نہ پائے تھے کہ بارش ہونے لگی ۔ ہم بھی مسجد کی چھت سے نیچے اُترے۔ پہلے مسجد میں گئے اورپھر حلوہ کھانے کا شوق لئے ہوئے حویلی کی ڈیوڑھی میں چلے گئے۔ دیکھا کہ وہی معتبر مولوی صاحبان چٹائیوں پر بیٹھے ہیں اورحضرت قاضی صاحب حلوے کی طشتریاں ان لوگوں کے سامنے رکھتے جارہے ہیں ۔ وہ حلوہ کھاتے بھی جارہے ہیں اورآپس میں ہنس کر باتیں بھی کررہے ہیں۔ ایک کی زبان سے میں نے یہ بھی سُنا کہ حضرت یہ نظر بندی کا معاملہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ۔ جادو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعوذ باللہ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ قاضی صاحب قبلہ ان کی اس بات پر دیر تک مسکرائے اوران بن بلائے مہمانوں کے لئے مزید حلوہ طلب فرماتے رہے ۔ باہر بارش ہو رہی تھی اوراندر مولوی صاحبان خوشی سے حلوہ اڑارہے تھے ۔ قاضی صاحب کے جو الفاظ آج تک میرے سینے پر منقوش ہیں میں یہاں ثبت کئے دیتا ہوں اورمیرا ایمان ہے کہ یہی مقصود تھا۔
قاضی صاحب نے کہا تھا’’کُتّے مل جل کر کبھی نہیں کھاتے لیکن یہ آج بھلائی کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اللہ کے بندوں کے لئے دُعا کرنے کے لئے وہ اتنے متحد رہے کہ ایک نے بھی کسی دوسرے پر چھینا جھپٹی نہیں کی۔ ان کا ایک ہی امام تھا۔ اس نے کھایا بھی کچھ نہیں۔ اب وہ آئے گا تو میں اس کے لئے حلوہ حاضر کروں گا۔‘‘
ایک مولوی صاحب نے کہا’’حضرت ہمیں تو یہ جادوگری نظر آتی ہے۔‘‘ قاضی صاحب بولے ’’مولوی صاحب ! ہم تو آپ ہی کے فَتوؤں پر زندگی گزارتے ہیں۔ خواہ اسے جادو فرمائیں یا نظر بندی آپ نے یہ تو ضرور دیکھ لیا ہے کہ کُتّے بھی کسی نیک مقصد کے لئے جمع ہوں تو آپس میں لڑتے جھگڑتے نہیں۔‘‘ یہ سُن کر مولوی صاحبان جھیپتے نظر آئے۔
مجھے یاد ہے کہ مولوی صاحبان کو بھیگتے ہوئے ہی اس ڈیوڑھی سے کل کر جاتے ہوئے میں نے دیکھا تھا۔ بخدا یہ عجوبہ اگر میں خود نہ دیکھتا تو کسی دوسرے کے بیان کرنے پر کبھی یقین نہ کرتا۔ یاد رہے کہ میں وہی حفیظ جالندھری ہوں جس کے بارے میں حضرت قاضی صاحب نے جلال پور جٹاں میں ساٹھ سال پہلے فرمایا تھا کہ حفیظ؎ تیری لکھی ہوئی نعتیں دوسرے سنایا کریں گے ۔
الحمدللہ ، نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ’’شاہنامہ اسلام‘‘ ساری دنیا کے اُردوجاننے والے مسلمان خود پڑھتے اوردوسروں کو بھی سُناتے ہیں۔
ارادت ہو تو دیکھ ان خرقہ پوشوں کو..
ید بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں...

See More
Muhammad Javed added 10 new photos.

"" نانی ویہڑہ تے راہ فقر دا ""

بلاشبہ یہ اعزاز صرف کاکی ہی کو حاصل ہے !

سرکار_دوعالم ص کے حجرہ کا دروازہ مسجد_نبوی ص کی طرف کھلتا جہاں اب ریاض الجنتہ ہے اور س...امنے منبر رسول ہے۔ تمام اکابر اصحاب رع اسی دروازے پر آتے ۔
لیکن سرکار_دوعالم ص کے حجرے کے ساتھ متصل بی بی پاک فاطمتہ الزہرہ ع۔س اور امام_عالی مقام علی المرتضی ع۔س کا حجرہ تھا اور دونوں کے درمیان ایک کھڑکی نما راستہ تھا جہاں سے شہزادگان حسنین ع۔س اور بی بی پاک کبھی بھی آ جا سکتے تھے کہ یہ ان کے ہی بابا کا گھر یا نانی ویہڑہ تھا ۔ آج بھی یہ سرکار_دوعالم ص کے روضہ کی جالیوں کے اندر ہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

See More
Muhammad Javed added 30 new photos.

بارہ جہتیں ؛
نقطہ اور نقطے کا پھیلاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

عجب نقطے میں آ رچ بسا ھوں ۔
بلکہ گھر گیا ہوں ۔ ...
کہ میں نہیں ہوں ۔
لیکن ۔۔۔
کوئی تو ہے ۔ ۔ ۔ !
کون ہے ہے ہے ہے ہے ۔۔۔ ؟
کوئی بازگشت تک نہیں کہ ۔۔۔
کچھ ہو تو ٹکرا کر ہی پلٹ آئے !
کوئی ہے ہے ہے ہے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے سود ۔۔۔
بے زیاں ۔۔۔۔
بے زباں ۔۔۔۔۔

ھو کا عالم ۔۔۔
ھو ھو ھو ھو ھو ۔۔۔۔۔
عالم ؟
یعنی علم والا ۔۔ !
کس کا علم ؟
کاہے کا علم ؟
جو نقطے سے شروع ہو کر نقطے پہ ختم ۔۔۔!

نقطہ کیسے ختم ہو سکتا ہے ؟
جب نطفے کا اتنا پھیلاو ہے تو ۔۔
نقطے کا پھیلاو کیا ہو گا میاں ؟
دھت تیرے کی ۔۔
کون میاں ؟
کس کا میاں ؟
جب نہیں ہے کوئی ۔۔۔

اوپر
نیچے
آگے
پیچھے
دائیں
بائیں
اندر
باہر
ساکت
متحرک ۔۔۔

متحرک ۔۔؟
کدھر کو ؟
گھڑی مخالف
کہ ۔۔
گھڑی موافق ؟
کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا ۔۔۔ ؟
کوئی ہے ےےےےےےےےےےےے۔۔۔

ھووووووووووووووووووووووووووووں ں ں ں ں !

See More