Posts

«بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ»
علامة ابن تيمية نے نقل کیا ہے کہ: امام مالک سے جب رافضیوں/ شیعوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا:’’ یہ وہ قوم ہے جس کا ارادہ رسول اللہﷺ کی ذات پر طعن و تشنیع کرنا تھا لیکن یہ ان کے لیے ممکن نہ تھا، اس لیے انھوں نے آپﷺ کے اصحاب کو طعن کا نشانہ بنایا تاکہ کہا جائے کہ یہ آدمی برا تھا اسی لیے اس کے اصحاب بھی برے ہیں، اگر یہ صالح اور نیک ہوتا تو اس کے ساتھی بھی صالح اور نیک ہوتے‘‘{الصارم المسلول:٥٨٠}

«سلسلة بدعات شعبان»
عبادہ بن ثامتؓ سے روایت منسوب ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس نے عید اور ۱۵ شعبان کی رات کو زندہ(قیام اور ذکر و اذکار) کیا تو جس دن سب کے دلوں کو موت آئے گی اس دن بھی اس کے دل کو موت نہیں ہو گی‘‘{العلل المتناهية:٩٢٤}
=> اس روایت کو بیان کر کے علامہ ابن الجوزی نے{العلل المتناهية:٩٢٤}، علامہ الذھبی نے{ميزان الاعتدال:٦٥٤٦} اور علامہ البانی نے{ضعيف الترغيب:٦٦٦} میں مروان بن سالم اور سلمة بن سلیمان سخت ضعیف راویوں کے باعث موضوع و جھوٹ اور منکر قرار دیا ہے۔

Photos
Posts

«فوائد»
زندگی کا قصہ مختصر:
(من تراب، علی تراب، فی تراب)
’’مٹی سے، مٹی پر، مٹی میں‘‘
(ثم حساب، فثواب او عقاب)...
’’پھر حساب، پس ثواب یا عذاب‘‘

See More

«سلسلة بدعات شعبان»
ابو امامة الباهليؓ سے منسوب ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی:
(۱) رجب کی پہلی رات
(۲) ۱۵ شعبان کی رات
(۳) جمعہ کی رات...
(۴) عید الفطر کی رات
(۵) عید الاضحی کی رات‘‘
{تاریخ دمشق: ۲۷۵/۱۰۔۲۷۶}
=> اس روایت کو علامہ البانی نے {الضعيفة: ١٤٥٢} میں بندار بن عمر اور ابراہیم بن یحی کذاب کے باعث موضوع و جھوٹ قرار دیا ہے۔
=> اس بارے میں عبداللہ بن عمر کا قول {المصنف عبد الرزاق:٧٩٢٧} میں ہے جس میں محمد البیلمانی کذاب ہے۔{ميزان الاعتدال:٧٨٣٣}

See More

«تنبيه و تحذير»
یقینا جو شخص بھی ’’سنت‘‘ سے دور ہوا وہ باطل افعال و اقوال کی کثرت سے منفرد ہوا۔

«سلسلة بدعات شعبان»
عائشةؓ سے روایت منسوب ہے کہ انھوں نے نبی کریمﷺ سے پوچھا: یارسول اللہﷺ! کیا آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب شعبان ہے جو آپ اس میں روزے رکھتے ہیں؟آپﷺ نے فرمایا:’’بے شک اس مہینے میں اللہ تعالی اس سال مرنے والوں کی موت لکھتا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میری موت روزے کی حالت میں آئے‘‘{مسند ابو يعلي:١٢٠١/٣}
=> یہ روایت منکر و سخت ضعیف ہے۔ علامہ البانی نے اسے {الضعيفة:٥٠٨٦} میں مسلم بن خالد اور اسماعیل بن قیس ضعیف راویوں کے باعث منکَر قرار دیا ہے.

«القرآن والفرقان»(فوائد سورۃ البقرۃ: ۱۲۷)
ابراہیم ﷺ نے کعبہ کہ تعمیر کے بعد فرمایا:
﴿ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾
ترجمہ: ’’اے ہمارے رب ہم سے قبول فرما‘‘۔
فائدہ: اللہ کے جلیل القدر رسول تو اپنے اعمال کی قبولیت کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے اور آج ہم معمولی سا عمل کر کے ایسے فخر کرتے ہیں گویا کہ ہم نے اللہ کا حق ہی ادا کر دیا ہو اور اللہ پر لازم کر دیا ہو کہ وہ اسے قبول ہی کرے۔

«بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ»
🔹 اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ﴾’’بے شک اللہ فاسق و گناہ گار قوم سے راضی نہیں ہوتا‘‘{التوبة:٩٦}
🔹 اور صحابہ کے بارے میں فرمایا:﴿ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ﴾’’بےشک جب مومنین(صحابہ)آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے اللہ ان سے راضی تھا‘‘{الفتح:١٨}
=> لیکن رافضی/ شیعہ فاسق اور جاہل ہے جس کے پاس نہ عقل ہے اور نہ نقل۔

«تنبيه وتحذير»
ہلاک ہونے والے پر کوئی تعجب نہیں کہ وہ کیسے ہلاک ہوا، تعجب تو کامیاب و فلاح پانے والے پر ہے کہ وہ کیسے مفلح و کامیاب ہوا.

«سلسلة بدعات شعبان»
انس بن مالکؓ سے روایت منسوب ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ تم جانتے ہو کہ شعبان نام کیوں رکھا گیا ہے؟ اس لیے کہ اس میں خیر کثیر جمع کر دی گئی ہے۔ اور رمضان نام کیوں رکھا گیا ہے؟ اس لیے کہ وہ گناہوں کو جلا دیتا ہے‘‘{تاريخ قزوين:١٥٣/١}
=> اس روایت کے بارے میں علامہ البانی نے فرمایا: ’’یہ روایت موضوع اور جھوٹی ہے جس میں زیاد بن میمون کذاب ہے، اور اس بارے میں عبداللہ بن عمرو کا قول بھی ہے جس میں عمر بن مدرک کذاب ہے‘‘{السلسلة الضعيفة:٣٢٢٣}

«اصول حدیث»
علامہ ابن المنذر فرماتے ہیں:’’جب تک کوئی روایت رسول اللہﷺ سے صحیح سند سے ثابت نہ ہو تب تک یہ کہنا جائز نہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایسا فرمایا ہے‘‘{الأوسط:٦٦٥٣}

«سلسلة بدعات رجب»
۱۔ علامة ابن دحية الكلبي فرماتے ہیں:’’بعض قصہ گو حضرات کہتے ہیں کہ اسراء و معراج رجب کے مہینے مہں ہوئی تھی، جب کہ یہ بات محققین علماء کے نزدیک جھوٹ ہے‘‘{أداء ما وجب:٥٣-٥٤}
۲۔ علی بن ابراہیم الشافعی نے فرمایا:’’رجب کے مہینے کی کوئی فضیلت نہیں سوائے اس کے کہ وہ حرمت والا مہینہ ہے،اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس مہینے میں معراج ہوا تھا تو یہ بات ثابت نہیں ہے‘‘{حكم صوم رجب وشعبان:۳۴}
۳۔ علامة ابن عثیمین نے فرمایا:’’جہاں تک ۲۷ رجب کی بات ہے تو بعض لوگ دعوی کرتے ہیں کہ اس رات میں معراج ہوئی تھی، جب کہ تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہے، اور جو چیز ثابت نہیں ہوتی وہ باطل ہے،اور جس کی بنیاد باطل پر ہو وہ بھی باطل ہے‘‘{مجموعة الفتاوي :٢٩٧/٢}
=> لہذا ۲۷ رجب کو شب معراج منانا اور اسے کسی بھی قسم کی عبادت کے لیے خاص کرنا باطل اور بدعت ہے۔

«تنبيه و تحذير»
اگر تمہیں شیعہ رافضیوں کے نظریہ "پنج تن" کا اثر اہل سنت میں دیکھنا ہے تو صرف ان کے ناموں کا ہی جائزہ لے لو کہ ان کے ہر نام کے شروع یا آخر میں تمہیں محمد، احمد، علی یا حسین ہی نظر آئے گا۔

«أقوال السلف»
سلف میں سے کسی نے کہا:’’جو کوئی حق قبول نہیں کرتا اللہ اسے باطل کو قبول کرنے میں مبتلا کر دیتا ہے‘‘

«تصحيحات و تنبيهات»
۱۔ اگر عشق کا لفظ محبت میں مبالغہ و زیادتی ہے تو:
رسول اللہﷺ نے فرمایا: " میرے بارے میں ہرگز مبالغہ نہ کرنا جیسے کہ عیسی بن مریم کے بارے میں مبالغہ کیا گیا ہے"{البخاري: ٦٨٣٠}
۲۔ اگر عشق کا لفظ محبت میں مبالغہ و زیادتی ہے تو:
لوگ صرف رسول اللہﷺ کے ہی عاشق کیوں ہیں کوئی خود کو اللہ کا عاشق کیوں نہیں کہتا؟...
۳۔ اگر عشق کا لفظ محبت میں مبالغہ و زیادتی ہے تو:
عاشق کا مفعول معشوق ہے۔ کیا کبھی کسی نے رسول اللہﷺ کو معشوق کہا ہے؟
۴۔ اگر عشق کا لفظ محبت میں مبالغہ و زیادتی ہے تو:
صحابہ کی رسول اللہﷺ سے محبت قرابت و رسالت کے اعتبار سے دو گنا تھی انہوں نے کبھی خود کو عاشق رسول کیوں نہیں کہا؟
۵۔ اگر عشق کا لفظ محبت میں مبالغہ و زیادتی ہے تو:
کیا کبھی کسی نے خود کو اپنی ماں کا عاشق کہا ہے یا اپنی ماں کو معشوقہ قرار دیا ہے؟
=> اگر نہیں تو جان لو کہ رسول اللہﷺ کے لیے عشق کا لفظ استعمال کرنا بدعت و جہالت ہے۔

See More

«اصول حدیث»
’’جان لو کہ اس زمانے میں احادیث حفظ کرنے والا محدث نہیں بلکہ آج کے زمانے میں محدث تو وہ ہے جو حدیث کا فہم و معرفت رکھنے والا، صحیح و ضعیف احادیث کی تمیز کرنے والا اور احادیث کی علت و خامیوں کا جاننے والا ہے‘‘۔

«سلسلة كتب ضعيفة والموضوعة»(المستدرک الحاکم)
ابو عبد اللہ الحاکم کی کتاب "المستدرک" کے بارے میں:
۱۔ ابن تیمیہ نے کہا:" الحاکم نے مستدرک میں کثیر احادیث کو صحیح کہا ہے جو اہل علم کے نزدیک موضوع و من گھڑت ہیں"{قاعدة الجليلة: ٨٥}
۲۔ ابن عبد الھادی نے کہا:" الحاکم نے جب مستدرک کی تالیف کی تو اس میں ضعیف اور منکر بلکہ کثرت سے موضوع و جھوٹی روایات کو ذکر کیا"{الصارم المنكي: ٣١}
۳۔ الذھبی نے کہا:" صدوق تھے لیکن انہوں نے مستدرک میں کثرت سے ضعیف احادیث کو صحیح کہا ہے، پس میں نہیں جانت...ا کہ انہیں اس(کے ضعف) کا علم تھا یا نہیں؟ لیکن وہ ان میں سے نہیں تھے جسے اس بات کا علم نہ ہو۔ اور اگر انہیں اس بات کا علم تھا تو یہ تو بڑی عظیم خیانت ہے"{ميزان: ٢١٦/٦}
۴۔ ابن عبد الھادی نے ایک جگہ کہا:" اگر الحاکم اپنی کتاب مستدرک کو تصنیف نہیں کرتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا۔ بے شک انہوں نے اس کتاب میں ضعیف و موضوع روایات ذکر کر کے فحش غلطیاں کی ہیں"{طبقات: ٢٤٢/٣}
۵۔ علامہ الذھبی نے کہا:" کاش کے الحاکم نے مستدرک تصنیف ہی نہ کی ہوتی"{تذكرة الحفاظ: ١٠٤٥/٣}

See More